مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 826
826 ا کسی کا شاگرد ہونا اعتراض۔نبی کسی کا شاگر دنہیں ہوتا۔مرزا صاحب شاگر در ہے۔جواب۔(۱) قرآن مجید :۔موسیٰ علیہ السلام ایک بندہ خدا (خضر) سے کہتے ہیں:۔قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِحُكَ عَلَى أَنْ تُعَلَّمَنِ مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا (الكهف : ٦٧) یعنی موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کی اس امر میں پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم پڑھا ئیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے؟ اگر نبی کا کسی سے علم سیکھنا منافی نبوت ہے تو کیا حضرت موسی“ نے اپنی نبوت سے دستبردار ہونے کے لئے یہ تدبیر نکالی تھی ؟ تمہارا یہ من گھڑت قاعدہ کہ نبی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔کہاں لکھا ہے؟ قرآن وحدیث کا ایک ہی حوالہ پیش کر دور نہ اپنی جہالت کا ماتم کرو!۔حدیث میں ہے:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسبت فرماتے ہیں۔إِذَا كَانَ بِهَا أَهْلُ اَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَ شَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ۔(بخاری کتاب الانبياء باب يَزِفُونَ النَّسْلَان فِي الْمَشْي وتجريد بخاری مترجم اردو مع اصل متن عربی مرتبه مولوی فیروز الدین اینڈ سنز لاہور ۱۳۴۱ھ جلد ۲ صفحه ۱۳۷ تر جمه از تجرید بخاری) یہاں تک کہ جس وقت ان ( بنو جرہم۔خادم ) میں سے کچھ گھر والے (چشمہ زمزم کے اردگرد جمع۔خادم ) ہو گئے اور وہ بچہ (حضرت اسمعیل۔خادم ) جوان ہوا اور اس نے ان سے عربی زبان سیکھی۔“ ۴۔حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ آنحضرت صلعم نے قصہ موسیٰ و خضر کے سلسلہ میں فرمایا: - قَالَ جِئْتُ لِتُعَلَّمَنِي مِمَّا عُلِمتَ رُشْدًا۔“ (بخاری کتاب الانبياء باب فضل خضر حديث الخضر مع موسى عليهما السلام صحيح مسلم كتاب الفضائل۔باب من فَضَائِلِ خِضر ) یعنی حضرت موسی نے خضر سے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تا کہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھا ئیں جو آپ کو دیا گیا ہے۔“ ۵ تفسیر :۔اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی تحریر فرماتے ہیں:۔اسْتَدَلَّ الْعُلَمَاءُ بِسُؤَالِ مُوسَى السَّبِيلِ إِلَى لِقَاءِ الْخِضْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا