مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 810 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 810

810 میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔“ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۷) ج خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔“ (رساله الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴) و پوری ترقی دین کی کسی نبی کی حین حیات میں نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کا یہ کام تھا کہ انہوں نے ترقی کا کسی قدرنمونہ دکھلا دیا اور پھر بعد اُن کے ترقیاں ظہور میں آئیں۔۔۔سوئمیں خیال کرتا ہوں کہ میری نسبت بھی ایسا ہی ہوگا۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۶۵) ه مسیح موعود صرف اس جنگ روحانی کی تحریک کے لئے آیا۔ضرور نہیں کہ اُس کے روبرو ہی اس کی تکمیل بھی ہو بلکہ یہ تم جو زمین میں بویا گیا آہستہ آہستہ نشو ونما پائے گا یہاں تک کہ خدا کے پاک وعدوں کے موافق ایک دن یہ ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔اور تمام سچائی کے بھوکے اور پیاسے اس کے سایہ کے نیچے آرام کریں گے۔دلوں سے باطل کی محبت اُٹھ جائے گی گویا باطل مر جائے گا اور ہر ایک سینہ میں سچائی کی روح پیدا ہو گی اس روز وہ سب نوشتے پورے ہو جائیں گے جن میں لکھا ہے کہ زمین سمندر کی طرح سچائی سے بھر جائے گی۔مگر یہ سب کچھ جیسا کہ سنت اللہ ہے تدریجا ہوگا۔اس تدریجی ترقی کے لئے مسیح موعود کا زندہ ہونا ضروری نہیں بلکہ خدا کا زندہ ہونا کافی ہوگا۔یہی خدا تعالیٰ کی قدیم سنت ہے اور الہی سنتوں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔پس ایسا آدمی سخت جاہل ہوگا کہ جو مسیح موعود کی وفات کے وقت اعتراض کرے کہ وہ کیا کر گیا۔کیونکہ اگر چہ یکدفعہ نہیں مگر انجام کار وہ تمام پیج جو مسیح موعود نے بویا تدریجی طور پر بڑھنا شروع کرے گا اور دلوں کو اپنی طرف کھینچے گا یہاں تک کہ ایک دائرہ کی طرح دنیا میں پھیل جائے گا۔(ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۲۹۵)