مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 44
44 کرنے والوں سے کہیں زیادہ مضبوط پیدا ہوتی رہتی ہے۔۳۔جیون چرتر مصنفہ لیکھرام و آتما رام صفحہ ۳۵۵ میں لکھا ہے کہ دوسرے دن سوامی دیانند جی نے مورتی پو جا کے کھنڈن ( تردید بت پرستی پر لیکچر دیا اور مندروں میں عورتوں کے جانے اور وہاں کی دُردشا ( بُری حالت) کا برن فرمایا اور فرمایا کہ سال میں ایک ہی بار اپنے پتی (خاوند) کے پاس جاوے یعنی و بچار ( زنا نہ کرے) کسی شخص نے مکان کی چھت سے دریافت کیا کہ جس عورت کا پتی طوائف ( کنجری ) کے پاس جاوے اس کی عورت کیا کرے؟ انہوں نے کہا۔اس کی عورت بھی ایک مضبوط آدمی رکھ لے۔تعلیم کس قدرنا قابل عمل، اخلاق سوز اور بے حیائی پیدا کرنے والی ہے۔۴۔”اے بیوہ عورت ! اپنے اس مرے ہوئے اصلی خاوند کو چھوڑ کر زندہ دیور یعنی دوسرے خاوند کو قبول کر۔اس کے ساتھ رہ کر اولاد پیدا کر۔وہ اولا د جو اس طرح پیدا ہوگی تیرے اصلی خاوند کی ہوگی۔“ (ستیارتھ ب ۴ دفعه ۱۳۳) کیونکہ دوسرے خاوند سے نکاح تو نہ ہوگا۔بغیر نکاح کے ہی اولاد پیدا شدہ مردہ خاوند کی ہوگی۔جائز نا جائز کا سوال نہیں صرف اولاد کے حصول کی غرض مد نظر ہے۔۵ - پرش کالنگ استری کی یونی میں گھنے پر خصوصیت سے نطفہ چھوڑتا ہے مگر پیشاب اس سے علیحدہ چھوڑتا ہے۔وہ نطفہ جھلی سے ڈھکا عمل کی شکل ہو کر پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونے پر اس ڈھکن کو چھوڑ دیتا ہے اور بیرونی ہوا جو جھلی کو چھوڑتا ہے وہی قسم قسم کی زندگی کے اسباب کی موجودگی یعنی روح کے متعلق دہن اور اس رس کی برابر ناش رہت پر تیکش وغیرہ گیان کے اسباب آنکھ وغیرہ اعضاؤں سے ملتا ہے یعنی ان کو ترقی دیتا ہے۔مطلب مرد کا آلہ تناسل عورت کی اندام نہانی سے ملنے پر نطفہ کو پیشاب سے علیحدہ چھوڑتا ہے۔“ (یجر دید ادھیائے ۱۹ منتر ۷۶ صفحه ۱۳۸۸اردوترجمہ مطبع گم پر کاش مسجد سوٹھہ ضلع دیلی ) عورت مرد حمل رکھنے کے وقت بالمقابل اور پریم میں چور ہوں۔منہ کے مقابل منہ۔آنکھ کے سامنے آنکھ۔دھیان کے سامنے دھیان۔جسم کے سامنے جسم کا انتظار کر۔حمل قائم کریں جس سے بدشکل یا ٹیڑھے عضوؤں والی اولاد پیدا نہ ہو۔“ ( کوکا پنڈت کے بھی کان کتر رہے ہیں اور تناسخ کو باطل ٹھہرا رہے ہیں )۔( یجروید ادھیائے ۱۹ منتر ۸۸ صفحه ۳۲۲ اردو تر جمہ مطبع نگم پر کاش مسجد سوٹھہ ضلع دہلی ) ے۔اے نیشو! جیسے بیل گالیوں کو گیا بھن کر کے نسل بڑھاتا ہے ویسے ہی گرہستی لوگ استریوں کو حمل رکھا کر پر جا بڑھاویں۔“ یجروید بھاش حصہ سوم ادھیائے ۲۸ منتر ۳۲ صفحه ۹۴ اردو ترجمہ مطبع نگم پر کاش مسجد سوٹھہ ضلع دہلی )