مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 805
805 پھر لکھتے ہیں :۔’پائہائے مبارک آں سرور مجروح شد۔ابو بکر صدیق او را بر دوش خود داشت و به در غار رسایند و نخست خود در غار در آمد تا آفتے و مکرو ہے با حضرت نرسد و هوام در آن غار مسکن داشتند پس باندروں رفت و به نشست او احتیاط کرد و حجره تاریک بود - هر سوراخی که یافت وصله از جامه خود که بر وقیمتی بود پاره می ساخت و سوراخ بأن مضبوط می کرد در آمد یک سوراخ ماند که جامه بال وفا نہ کر د۔پاشنه پائے خود با محکم گردانید۔پس گفت یا رسول اللہ ! در آی۔حضرت در آمد (مدارج النبوة جلد نمبر ۲ صفحه ۸۲ مصنفہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۱۲ پر غار ثور کی جس خستہ و خراب حالت کا نقشہ کھینچا ہے وہ بالکل درست ہے باقی تمہارا یہ کہہ کر دھوکہ دینا کہ صفحہ ۱۳ اتحفہ گولڑویہ میں حضرت نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقبرہ کا ذکر فرمایا ہے۔انتہائی شرارت ہے کیونکہ حضوڑ کا روضہ حجرہ عائشہ میں تھا یعنی وہ مکان تھا جس میں حضور آپنی زندگی میں خود رہتے تھے۔کیا وہ غیر آباد تھا؟ ۶۵۔حضرت مریم کی توہین کا الزام مرز اصاحب نے چشمہ مسیحی کے صفحہ نمبر ۲۵ تا ۲۸ طبع اول پر حضرت مریم پر نعوذ باللہ تہمت لگائی۔جواب: یہ جھوٹ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مریم پر زنا کا الزام لگایا ہے اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ حضرت نے اپنی طرف سے ان کے یوسف نجار کے ساتھ نکاح پر کوئی اعتراض کیا ہے۔یہ اعتراض کہ حضرت مریم نے باوجود ہیکل کی خدمت کا عہد کرنے کے حمل کے سات مہینے بعد یوسف کے ساتھ نکاح کیوں کر لیا۔یہ حضرت مسیح موعود کا اعتراض نہیں بلکہ انجیل کی تعلیم کی رو سے یہودیوں کا اعتراض ہے جس کو حضرت مسیح موعود نے عیسائیوں کے بالمقابل درج کیا ہے۔یہ لوگ (عیسائی۔خادم ) اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تھا تا وہ ہمیشہ بیت چشمہ مسیحی روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۵۵) المقدس کی خادمہ ہو۔“ گویا یہ اعتراض انجیل پر وارد ہوتا ہے مگر قرآنی تعلیم پر یہ اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ اس اعتراض کو نقل کر کے حضرت مسیح موعود نے اس کے ساتھ ہی فرما دیا ہے۔ہم قرآن شریف کی تعلیم کے