مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 796 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 796

796 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی مندرجہ دار قطنی صفحہ ۱۸۸ کے مطابق ۱۸۹۴اسکے رمضان میں ظاہر ہوا اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ کہ ہمارے مہدی کے لئے یہ دو نشان ہوں گے۔پس ان دو نشانوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ظاہر ہونا سب سے پہلے تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا نشان ہے۔پس یہ دونشان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے بھی دو نشان ہوئے۔ایک نشان شق القمر کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ظاہر ہوا۔وہ ان دو کے علاوہ ہے غرضیکہ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے یہ تین نشان ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے اس کے بالمقابل دونشان۔اب اگر کوئی کہے کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہی نشان اور اپنے دو نشان لکھے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام اس قصیدہ میں اپنے مخالف علماء مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو مخاطب فرما رہے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ مخالف مولوی یہ نہیں مانتے کہ حدیث مذکور کسوف و خسوف مندرجہ سنن دار قطنی صفحہ ۱۸۸ کے مطابق ۱۸۹۴ء میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔وہ تو اس کو حدیث ہی قرار نہیں دیتے بلکہ امام محمد باقر رحمتہ اللہ علیہ کا قول قرار دیتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی نہ تھی جو پوری ہوئی بلکہ یا تو کسی جھوٹے راوی کی پیشگوئی تھی یا زیادہ سے زیادہ امام محمد باقر کی۔پس بخیال غیر احمد یاں آنحضرت صلعم کی تائید میں ایک ہی نشان شق القمر کا ہوا۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو الزامی طور پر کہا کہ آنحضرت صلعم کی تائید میں ایک نشان تھا اور میری تائید میں دونشان۔ورنہ حضرت صاحب کے نزدیک تو جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلعم کے معجزات ہیں۔“ تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۶۰) یہی حقیقت ہے۔باقی رہا محمدیہ پاکٹ بک کے مصنف کا صفحہ ۲۵۵ پرلکھنا کہ لَهُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِيرُ “ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلعم کے زمانہ میں صرف چاند گرہن ہوا تھا اور چاند کے دوٹکڑے نہ ہوئے تھے محض جہالت ہے۔کیونکہ عربی زبان میں خَسَفَ کے معنی ٹوٹنے۔سوراخ دار ہونے کے بھی ہیں۔اور گرہن لگنے کے بھی۔پس اعجاز احمدی کے شعر میں جہاں آنحضرت صلعم کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا وہاں اس کے معنی اِنْشَقَّ الْقَمَرُ ہی کے ہیں اور جہاں حضرت مسیح موعود کے لئے استعمال ہوا وہاں اس