مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 784
784 ترجمہ:۔حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ بڑی تیزی سے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا۔اے ابوبکر! کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول نہیں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ہیں۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا۔کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا۔ہیں! پھر حضرت عمرؓ نے کہا، کیا وہ لوگ مشرک نہیں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ہاں ! پھر حضرت عمرؓ نے کہا۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایسی شرائط پر صلح کریں جس میں ہمارے دین کی ہتک ہو۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے عمر ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑے رہ۔کیونکہ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔حضرت عمر نے کہا میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ حضور اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد حضرت عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا۔اے رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں ہوں۔پھر حضرت عمر نے کہا۔کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ہیں۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا۔کیا وہ لوگ مشرک نہیں ہیں ؟ حضور نے فرمایا ! ہاں ہیں! تو اس پر حضرت عمرؓ نے کہا پھر ہم کیوں دب کر صلح کریں جس سے ہمارے دین کی ہتک ہو۔اب دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا جلیل القدر انسان بھی دب کر صلح کرنا اپنی ہتک قرار دیتا ہے۔لیکن کیا فی الحقیقت یہ ایسا ہی تھا۔نہیں ہرگز نہیں۔بعینہ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقرار بھی تم کو بزدلی نظر آتا ہے۔مگر اہل بصیرت اس کو بھی حضرت اقدس کی فتح سمجھتے ہیں کیونکہ اس معاہدہ کے رو سے مولوی محمد حسین بٹالوی اوّل المکفرین نے اپنا فتویٰ کفر واپس لے لیا تھا۔(تفصیل کے لئے دیکھو تریاق صفحہ ۳۰ اطبع اول) جواب نمبر ۴۔اوپر بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ معاہدہ میں تحریر فر مایا۔وہ ہرگز عدالت کے ڈر یا خوف کے باعث نہیں تھا لیکن قرآن مجید میں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے الوالعزم کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ دربار فرعون میں خوف زدہ ہو گئے۔فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيْفَةً مُوسَى (طه: ۶۸) کہ موسیٰ علیہ السلام ساحروں کی رسیاں اور سوئیاں سانپ کی طرح دوڑتی دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے۔اسی طرح دربار فرعون میں جانے سے پہلے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام خوف کھاتے اور ڈرتے تھے قرآن مجید میں ہے:۔قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافَ أنْ يَفْرُطَ عَلَيْنَا أو أن يظلی “ (طه: ۴۶) کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام نے کہا۔اے ہمارے رب ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں فرعون ہم پر