مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 741 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 741

741 کچھ لکھا گیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے سکھوں کے جبر و استبداد اور ان کے وحشیانہ مظالم کی طویل داستان ۱۸۵۷ء کا سانحہ اور اس کے ماسبق و مابعد کا تاریخی پس منظر، مسلمانوں کی مذہبی و روحانی، تعلیمی و اقتصادی حالت کا علم ہونا ضروری ہے۔اور یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ وہ سب تحریرات جو مخالفین کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں، مخالفین کی طرف سے عائد کردہ بغاوت کے جھوٹے الزام کے جواب میں بطور ذب“ ہیں۔پھر یہ کہ حضور علیہ السلام یا حضور کی جماعت یا اولا د نے انگریزی حکومت سے ایک کوڑی کا بھی نفع حاصل نہیں کیا۔نہ کوئی جاگیر لی ، نہ خطاب، نہ مربعے، بلکہ جو حق بات تھی اس کا ضرورتا اظہار کیا گیا۔پھر یہ ضروری پہلو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جہاں حضرت مرزا صاحب نے انگریزی قوم کی دنیوی اور مادی ترقیات کے لئے ان کی تعریف کی ہے وہاں اُن کے روحانی اور مذہبی نقائص کی اس سے زیادہ زور کے ساتھ مذمت بھی فرمائی ہے۔(اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی نظم مندرجہ نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۲۳ تا ۱۳۱ و در یشین عربی صفحه ۱۰۹ یا صفحه ۱۱۸ بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں حضرت نے اللہ تعالیٰ سے ہندوستان میں عیسائیوں کے غلبہ اور تسلط کے خلاف فریا د کر کے ان کی تباہی اور ہلاکت کے لیے بددعا فرمائی ہے۔) ۴۵۔خود کاشتہ پودہ کا الزام مرزا صاحب نے اپنے مکتوب ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء بنام لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا زیر گزارش نمبر ۵ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۲۱ ہے۔جواب:۔(۱) جھوٹ ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے ہرگز ہرگز اپنی جماعت کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا نہیں قرار دیا۔اگر یہ ثابت کر دو کہ حضرت اقدس نے اپنی جماعت کو انگریزوں کا ”خود کاشتہ پودہ قرار دیا ہے تو منہ مانگا انعام لو۔(۲) حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ مکتوب کوئی مخفی یا پوشیدہ دستاویز نہیں ہے جو تمہارے ہاتھ لگ گئی ہے بلکہ حضرت اقدس نے خود اس مکتوب کو طبع کرا کے اشتہار کی صورت میں بکثرت پبلک میں تقسیم کرایا تھا اور پھر حضور کی وفات پر وہ اشتہار تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ ۱۹ صفحہ ۲۰ پر طبع ہوا۔(۳) اس مکتوب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے ”خود کاشتہ پودہ“ کا لفظ حضرت کے