مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 740
740 اطلاع دوں۔میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے “ ( تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۳ ۲۷۴) ”اس میں کچھ شک نہیں کہ قرآن نے ان باریک پہلوؤں کا لحاظ کیا ہے جو انجیل نے نہیں کیا۔اسی طرح قرآن عمیق حکمتوں سے پُر ہے اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کے لئے آگے قدم رکھتا ہے۔بالخصوص بچے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عددکس نمبر تک پہنچ جاتا۔سوشکر کا مقام ہے کہ خدا کی وحدانیت جو زمین سے گم ہوگئی تھی۔دوبارہ قائم ہو گئی۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں:۔66 تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸۲) ”اے قادر و توانا! قیصرہ ہند کومخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ 66 رَّسُولُ اللهِ پر اس کا خاتمہ کر “ (اشتہار ۲۵ جون ۱۸۹۷ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۳۲) غرضیکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاں انگریزی حکومت کے اس پہلو کی تعریف کی کہ وہ دین میں مداخلت نہیں کرتی اور رعایا کے مختلف الخیال اور مختلف العقیدہ عناصر کے مابین عدل وانصاف کی پالیسی پر عمل کرتی ہے وہاں آپ نے اس کے دینی اور روحانی پہلو کے خلاف سب سے پہلے علم بلند کیا اور اس شان سے کیا کہ اس میدان میں آپ کے سوا ساری دنیا کے مسلمانوں میں سے ایک حص بھی نظر نہیں آتا۔پس جس طرح با وجود اس امر کے کہ شراب ام الخبائث ہے یعنی بدترین چیز ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کی برائیوں کی مذمت فرمائی ہے، وہاں اس کی خوبیوں کا اعتراف بھی فرمایا ہے۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے انگریزوں کے اچھے اور قابل تعریف کا موں کو جہاں سراہا ہے وہاں ان کے بُرے قابل نفرت واصلاح کاموں کی پر زور مذمت بھی فرمائی ہے۔خلاصہ کلام:۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں انگریزی دور کی تعریف میں جو