مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 731
731 میں مسلمانوں کو قریش کے حوالے کردوں گا اور اسی دعوی کی تائید یا تردید حضرت جعفر سے مطلوب تھی لیکن انہوں نے جو آیات تلاوت فرما ئیں ان سے کسی رنگ میں بھی وفد قریش کے دعوی کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت جعفر نے اس موقعہ پر بجائے یہ کہنے کے کہ ہاں یہ درست ہے کہ ہم ایک نئے دین کے علمبردار ہیں اور ایک نئی شریعت کے حامل ہیں جس نے توراۃ اور انجیل کو منسوخ کر دیا ہے ہم حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کے عقیدہ کو ایک جھوٹا اور مشرکانہ عقیدہ سمجھتے اور عیسائی مذہب کو ایک محرف و مبدل اور غلط مذہب سمجھتے ہیں اور یہ کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسی اور عیسی بلکہ تمام انبیاء گذشتہ سے ہر لحاظ سے افضل ہے۔آپ نے سورۃ مریم کی صرف وہ آیات تلاوت فرمائیں جن میں حضرت مسیح اور حضرت مریم کا تقدس اور پاکیزگی بیان کی گئی ہے لیکن ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ چونکہ وفد قریش کا مقصد تحقیق حق نہیں تھا بلکہ احراریوں کی طرح محض اشتعال انگیزی تھا اور وہ اختلافی امور میں بحث الجھا کر نجاشی، اس کے درباریوں اور عیسائی درباریوں اور عیسائی پادریوں کو (جو اس وقت دربار میں حاضر تھے ) مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا چاہتے تھے۔اس لئے حضرت جعفر نے ان کی اس شر انگیز اور مفسدانہ سکیم کو نا کام بنانے کے لئے بجائے اختلافی امور میں الجھنے کے قرآن مجید کی اس تعلیم پر زور دیا جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔اسی طرح انہوں نے نجاشی کی حکومت کی (جو ایک غیر مسلم نصرانی حکومت تھی ) جو تعریف کی وہ سراسر درست اور حق تھی اور بطور ذب یعنی بغرضر فع التباس تھی۔اس لئے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور نہ اس کو خوشامد“ کہا جاسکتا ہے۔نیز نجاشی کی حکومت کی تعریف اس وجہ سے بھی خوشامد نہیں کہلا سکتی کہ قریش مکہ کے جبر و استبداد اور ظلم و تعدی اور احیاء فی الدین کے مقابلہ میں حبشہ کی عیسائی حکومت کے اندر مذہبی آزادی اور عدل وانصاف کا دور تھا۔پس اس تقابل کے نتیجہ میں حضرت جعفر اور دیگر مہاجر صحابہ کے دل میں جنہوں نے قریش مکہ کے بھڑکائے ہوئے جلتے تنور سے نکل کر حبشہ کی عیسائی حکومت کے ماتحت امن وامان اور سکون و آرام پایا تھا نجاشی کے لئے جذبات تشکر و امتنان کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا۔اور پھر نجاشی کے سامنے ان جذبات کا اظہار بموجب حكم "مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ۔“ (ابو داؤد کتاب الادب باب فى شكر المعروف و ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى الشكر لمن احسن الیک) ضروری تھا۔