مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 711
711 لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۱ ۱۲) نیز دیکھوازالہ اوہام صفحی ۳۴، صفحه ۳۵ طبع اوّل تقطیع کلاں صفحہ ۷ طبع اول حصہ اول، کتاب البریہ صفحه ۹۳ طبع اوّل صفحہ ۱۱۱ تا ۱۸ تبلیغ رسالت جلد نمبرے صفحہ ۹۷ وتتمہ حقیقۃ الوحی صفحه ۲۰ تا ۲۳ طبع اول ) ۳۹۔مبارک احمد کا قبل از ولادت بولنا وو مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ میرے بچے مبارک احمد نے اپنی والدہ کے شکم میں باتیں کیں۔جواب:۔مبارک احمد کے جس کلام کا ذکر تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۱۳ ۲۱۴ پر ہے وہ براہ راست بچے کا کلام نہیں بلکہ الہام الہی ہے جو خدا تعالی کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا یعنی اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوفرمایا کہ إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَ أُصِيْبُهُ ( تذکره صفحه ۲۷۶ مطبوعه ۲۰۰۴ ) ( یعنی میں اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہوں اور جلد ہی خدا تعالیٰ کی طرف واپس چلا جاؤں گا ) یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے حضور کو مبارک احمد کی ولادت سے پہلے الہام کئے اور یہ کلام حکایت مبارک احمد کی طرف سے تھا۔جیسا کہ قرآن کریم کی آیت ” إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ که خدا تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی طرف سے یہ الفاظ الہام کئے ہیں۔پس اسی طرح چونکہ الہامی فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ کلام مبارک احمد کی طرف سے کیا تھا اور جملہ کا متکلم بالواسطہ مبارک احمد تھا۔اس لئے حضرت اقدس نے استعارہ لکھا ہے کہ گویا اس کے بچے ہی نے باتیں کیں۔یہ قول صاحبزادہ مبارک احمد کا ایسا ہی ہے جیسے قرآن مجید سورۃ آل عمر آن رکوع ۵ میں ہے کہ جب فرشتہ حضرت مریم کے پاس حضرت مسیح کی ولادت کی بشارت لے کر آیا تو اس کی بشارت کے ساتھ ہی آئی قد جِئْتُكُمْ بِايَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ (ال عمران : ۵۰ شروع ہو جاتا ہے ( کہ میں آیا ہوں تمہاری طرف، خدا کی طرف سے نشان لے کر ) مختصر یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کی رو سے وہ آواز مبارک احمد کی طرف سے نہ آئی تھی بلکہ الہامی کلام میں اللہ تعالیٰ نے حکا تیا اس کی طرف سے کلام کیا تھا۔۲۔لیکن تمہارے ہاں تو یہاں تک لکھا ہے کو ایک دفعہ حضرت پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ نے آپ سے کچھ بات کہی تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا۔اے اماں! کیا تجھے یاد نہیں کہ جب میں تیرے پیٹ میں تھا تو ان دنوں ایک سائل فقیر بھیک مانگنے تیرے دروازہ پر آیا۔تو اسے ایک شیر کھانے کے لئے دوڑا تھا۔جس سے ڈر کر وہ سائل بھاگ گیا تھا۔کیا تجھے