مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 704
704 زنم میں بھی زنیم کے معنی IGNOBLE درج ہیں جس کے معنی ولد الحرام یا بد اصل کے ہیں۔۲۔بخاری میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کا سفیر عروہ بن مسعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہا تھا کہ حضرت ابوبکر نے اسے مخاطب کر کے کہا:۔أمُصُصُ بِبَطْرِ اللَّاتِ “ (بخارى كتاب الشروط۔باب الشروط في الجهاد و المصالحة و تجرید بخاری مترجم اردو شائع کردہ مولوی فیروز الدین اینڈ سنز لاہور جلد ۲ صفحہ ۱۳) حضرت ابو بکر نے عروہ سے کہا کہ لات کی شرمگاہ چوس ( یہ عرب میں نہایت سخت گالی سمجھی جاتی تھی ) یادر ہے کہ حضرت ابوبکر نے یہ الفاظ آنحضرت صلعم کی موجودگی میں فرمائے مگر حضور صلعم نے انہیں منع نہیں فرمایا بلکہ خاموش رہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ وہ شخص حضرت ابو بکڑ سے نہیں بلکہ آنحضرت سے باتیں کر رہا تھا اور اس نے آنحضرت صلعم کو گالی نہیں دی تھی بلکہ صرف اتنا کہا تھا کہ اے محمد ! یہ مسلمان اگر ذراسی بھی تیز لڑائی ہوئی تو آپ کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔اس پر حضرت ابو بکر نے اُمُصُصُ بِبَطْرِ اللَّاتِ کہا آنحضرت صلحم حضرت ابو بکر کے فقرے کو بھی سن رہے تھے۔مگر آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کو منع نہیں فرمایا۔۳- گومندرجہ بالا حدیث حدیث تقریر کا درجہ رکھتی ہے۔مگر پھر بھی ایک اور حدیث درج کی جاتی ہے۔عن أبي ابْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَعَنَّا بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَاعِضُوُهُ بِهَنِ اَبِيْهِ وَلَا تَكْنُوا (مشكواة كتاب الآداب باب المفاخرة و العصبيــه الفصل الثاني ) اس حدیث کا اردو ترجمہ الْمُلْتَقَطَات شرح مشکوۃ سے درج کیا جاتا ہے۔روایت ہے ابی بن کعب سے کہ کہا۔سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ جو کوئی کہ نسبت کرے ساتھ نسبت جاہلیت کے۔پس کٹو اؤ اس کو ستر باپ اس کے کا اور کنایہ نہ کر یعنی یوں کہو کہ اپنے باپ کا ستر کاٹ کر اپنے منہ میں لے لے۔اس حدیث میں نہایت تشدید ہے فخر بالا باء پر اور حقیقت میں اپنی قوم کی بڑائی کرنا عبث ہے۔(المشکوۃ بالملتقطات كتاب الآداب باب المفاخرة والعصية) ۴۔ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الْعَضُّ اَخُذُ الشَّيْءِ بِالْأَسْنَانِ بِهَنِ آبِيْهِ بِفَتْحِ الْهَاءِ وَ تَخْفِيفِ النُّونِ كِنَايَةٌ عَنِ