مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 705
705 الْفَرْجِ أَى قُولُوا لَهُ۔اُعْضُضْ بِذَكَرِ اَبِيْكَ وَ اَيْرِهِ أَوْ فَرْجِهِ وَلَا تَكْنُوا بِذِكْرِ الْهَنِ مِنَ الايْرِ بَلْ صَرِّحُوا له۔(مرقاة بر حاشیه مشکوة صفحه ۳۵۶ مطبع انصاری) کہ عض کے معنی ہیں کسی چیز کا دانتوں سے پکڑنا۔۔۔الخ۔غیر احمدی علماء نے حضرت مسیح موعود کو جو گالیاں دیں۔ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ عبدالحکیم نے اپنے رسالہ ”اعلان الحق صفحہ ۳۰ میں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کو حرامزادہ لکھا ہے۔(لَعْنَتُ اللهِ عَلَى مَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ۔خادم ) نیز محمد علی بوپڑی نے اپنے رسالہ ”صوت ربانی بر سر دجال قادیانی میں بھی یہی لفظ لکھا ہے۔۳۷- ذُرِّيَةُ الْبَغَايَا (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۴۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قطعاً غیر احمدیوں کو ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا نہیں کہا۔بوجوہات ذیل: جواب:۔آئینہ کمالات اسلام کی اشاعت تک تو حضرت غیر احمدیوں کو کافر بھی نہیں کہتے تھے۔چہ جائیکہ ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا کہتے۔آپ کی طرف سے جوابی فتوئی حقیقۃ الوحی ۱۵ رمئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۱،۱۲۰ طبع اول میں شائع ہوا ہے۔۲۔اس عبارت میں حضور نے اپنی خدمات اسلامی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے۔قد حُبَ إِلَيَّ مُنْذُ دَنَوْتُ الْعِشْرِينَ اَنْ اَنْصُرَ الدِّينَ وَ أُجَادِلَ الْبَرَاهَمَةَ وَالْقِسِيْسِينَ کہ جب میں ہیں سال کا ہوا تبھی سے میری یہ خواہش رہی کہ میں آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مقابلہ کروں چنانچہ میں نے براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ اور آئینہ کمالات اسلام وغیرہ کتابیں لکھیں جو اسلام کی تائید میں ہیں۔كُلُّ مُسْلِمٍ ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۷ ) ( یعنی ہر مسلمان ) ان کتابوں کو بنظر استحسان دیکھتا اور ان کے معارف سے مستفید ہوتا اور میری دعوت اسلام کی تائید کرتا ہے مگر یہ ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ ان کے مخالف ہیں۔چنانچہ براہین احمدیہ اور سرمہ چشمہ آریہ کے جواب میں لیکھرام آریہ نے حبط احمدیہ اور تکذیب براہین احمدیہ شائع کیں مگر مسلمان حضرت کی تائید میں تھے۔چنانچہ محمد حسین بٹالوی نے براہین پر ریویو (رسالہ اشاعۃ السنتہ جلد کے صفحہ ۱۶۹) لکھا۔مسلم بک ڈپو لاہور نے سرمه چشمه آریہ ( پر مولوی محمد حسین بٹالوی کا تبصرہ اشاعۃ السنتہ جلد ۹ صفحہ ۱۴۹ تا ۱۵۸ شائع ہوا) کو اپنے خرچ پر شائع کیا۔