مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 680 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 680

680 الامراء من قریش) یعنی امیر کا قریشی ہونا ضروری ہے۔مگر دوسری جگہ فرماتے ہیں :۔اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِن اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمُ عَبْدٌ حَبُشِيٌّ۔(بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة للامام) سوان ہر دو اقوال کو نقل کر کے ابن خلدون لکھتا ہے :۔قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا وَإِنْ وُلِيَّ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبْشِيٌّ ذُو زَبِيبَةٍ وَهذَا لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ فِى ذَالِكَ فَإِنَّهُ خَرَجَ مَخْرَجَ التَّمْثِيلِ وَالْفَرْضِ لِلْمُبَالِغَةِ فِي إِيْجَابِ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ۔“ ( مقدمه ابن خلدون مصری صفحه ۶۲ افصل الخامس والعشرون في معنى الخلافة والامامة) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ اگر تم پر کوئی حبشی بھی حکمران بنایا جائے تو تم پر فرض ہے کہ تم اس کی اطاعت کرو۔اس امر کی حجت نہیں ہو سکتا کہ امیر کے لئے قریشی النسل ہونا ضروری نہیں کیونکہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطاعت اور فرمانبرداری پر زور دینے کے لئے تمثیل اور مبالغہ سے کام لیا ہے۔پس ثابت ہوا کہ کسی چیز پر زور دینے کے لئے مبالغہ سنت نبوی ہے۔پس تمہارا اعتراض باطل ہو گیا۔تمہارے جیسا معترض تو شاید قرآن مجید کی آیت وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ في سَمِ الْخِيَاطِ (الاعراف: ۴۱) کو پڑھ کر ایسی سوئی کی تلاش میں نکل کھڑا ہو کہ جس کے ناکے میں سے اونٹ گزر سکے اور نہ مل سکنے پر قرآن مجید پر مبالغہ آمیزی کا الزام لگانے لگ جائے۔اسی طرح حدیث شریف "مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» (مسلم كتاب الايمان باب الدليل على ان من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا ) اور دوسری مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔۲۶۔تناقضات اعتراض:- حضرت مرزا صاحب کے اقوال میں تناقض ہے؟ جواب:۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے اقوال میں کوئی تناقض نہیں۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ نبی پہلے ایک بات اپنی طرف سے کہے۔مگر اس کے بعد خدا تعالیٰ اس کو بتا دے کہ یہ بات غلط ہے اور