مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 658
658 جس میں یہ بددعا تھی۔ابھی وہ کتاب چھپ رہی تھی کہ علیگڑھی مرگیا۔مولویوں نے اس کی کتاب میں سے وہ سب بددعائیں نکال ڈالیں تا کہ حضرت مسیح موعود کی صداقت پر گواہ نہ بن جائے۔وہ کتاب جو ابھی زیر طبع تھی مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے دیکھی تھی اور انہوں نے اس کے متعلق شہادت بھی دی تھی کہ اس کتاب کا سائز فتح اسلام ( مؤلفہ حضرت مسیح موعود ) کا سائز تھا۔اگر اس نے کوئی ایسی بددعا نہ کی تھی تو تم نے حضرت مسیح موعود سے کیوں حوالہ نہ مانگا۔تمہاری تحریف کی تو یہ حالت ہے کہ شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر کے صفحہ ۹۹ پر لَوْ كَانَ مُوسى حَيًّا، لکھ دیا ہے تا کہ کسی طرح عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت نہ ہو۔ع کچھ تو لو گو خدا سے شرماؤ ے۔حدیث سوسال کے بعد قیامت آجائے گی اس کا حوالہ دو۔جواب :۔یہ حدیث متعدد کتب حدیث میں ہے۔(۱) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ تَبُوكِ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ ( معجم صغیر طبرانی جز اول صفحہ ۳۱۔دار الکتب العلمیة بیروت) ابوسعید کہتے ہیں کہ جب ہم جنگ تبوک سے واپس آئے تو ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام بنی آدم پر سو سال نہ گزرے گا مگر آج کے زندوں میں سے ایک بھی روئے زمین پر نہ ہوگا۔یاد رہے کہ سائل کا سوال قیامت کے متعلق ہے۔(۲) فَقَالَ اَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ عَلى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمِ عَلَى ظَهْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔“ (ترمذی ابواب الفتن باب لا تاتى مائة سنة و على الارض نفس منفوسة اليوم) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کی اس رات سے سو سال نہ گزرے گا کہ روئے زمین کے موجودہ زندوں میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔(۳) اس حدیث پر یہ حاشیہ لکھا ہے :۔اِنَّ الْغَالِبَ عَلَى أَعْمَارِهِمْ أَنْ لَّا تَتَجَاوَزَ ذَلِكَ الأمُرُ الَّذِى أَشَارَ إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونُ قِيَامَةُ أَهْلِ ذَلِكَ الْعَصْرِ قَدُ قَامَتُ “ (ترندی ابواب الفتن باب ۶۴ حدیث نمبر ۷ ۲۲۵ دار احیاء التراث العربی )