مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 654
654 پھوڑا ( طاعون ) ظاہر کرے گا۔پس وہ صبح کو ایک آدمی کی موت کی طرح ہو جائیں گے۔(نغف کے معنے پھوڑا اور طاعون ہے۔دیکھو عربی ڈکشنری مصنفہ LANE جلد ۸ صفحه ۲۸۱۸و ضمیمه صفحه ۳۰۳۶)۔بحارالانوار میں ہے: قُدَّامُ الْقَائِمِ۔۔۔مَوْتَانِ مَوْتُ أَحْمَرُ وَ مَوْتُ أَبْيَضُ۔۔۔۔۔فَالْمَوْتُ الْأَحْمَرُ اَلسَّيْفُ وَالْمَوْتُ الأَبْيَضُ الطَّاعُونُ “ ( بحارالانوار مصنفہ علامہ محمد باقر مجلسی جلد ۵۲ باب علامة ظهوره عليه السلام من السفياني والدجال۔داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان ) کہ امام مہدی کی علامات میں ہے کہ اس کے سامنے دو قسم کی موتیں ہوں گی۔پہلی سرخ موت اور دوسری سفید موت۔پس سرخ موت تو تلوار ( لڑائی) ہے اور سفید موت طاعون ہے۔۴۔مندرجہ بالا جواب میں جو ہم نے قرآن مجید کی آیت أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةَ مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُم (النمل: ۸۳) کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں ایک کیڑا نکلے گا جوان کو کاٹے گا۔اس کی تائید بحارالانوار کے مندرجہ ذیل حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔سمَّ قَالَ (ابو عبد الله امام حسين) وَقَرَءَ تُكَلِّمُهُمُ مِنَ الْكَلِمِ وَ هُوَ الْجُرُحُ وَالْمُرَادُ بِهِ الْوَسُمُ یعنی امام باقر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی مندرجہ بالا دابتہ الارض والی آیت کے متعلق حضرت امام حسین نے فرمایا کہ اس آیت میں تُعَلِّمُهُم مراد یہ ہے کہ وہ کیڑا ان کو کاٹے گا اور زخم پہنچائے گا۔( بحار الانوار از علامه محمد باقر مجلسی جلد ۵۳ باب تاریخ الامام - الثانی عشر - دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان و نیز دیکھو اقتراب الساعته از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفید عام الکائنہ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ صفحہ ۱۹۷) خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :۔خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بہت تصریح سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ضرور طاعون پڑے گی اور اس مری کا انجیل میں بھی ذکر ہے اور قرآن شریف میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ قَرْيَةِ الَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا الخ (بنی اسرائیل: ۵۹) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں ہوگی جس کو ہم کچھ مدت پہلے قیامت سے یعنی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے ہلاک نہ کر دیں یا عذاب میں مبتلا نہ کریں۔“ ( نزول مسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۹۶) یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابتہ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ