مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 636 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 636

636 ہوئے مرگیا لیکن یہ خواب اس کے بیٹے عتاب کے حق میں نکلی۔پس اگر اسید کافر سے مراد عتاب مسلمان بھی ہو سکتا ہے تو ایک مومن کی جگہ دوسرا اس سے اعلیٰ مومن کیوں نہیں ہوسکتا ؟ انبیاء کی ذمہ واری قرآن مجید اور احادیث نبوی اور اقوال آئمہ سلف سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے اور انبیاء اور خدا تعالیٰ کے مامورین صرف اور صرف اس چیز کی صحت کے لیے جواب دہ ہوتے ہیں کہ جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتی ہے۔وہ اپنے اجتہاد کے ذمہ وار نہیں ہوتے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:۔66 مَا حَدَّثْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ اللهِ سُبْحَانَهُ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا قُلْتُ فِيْهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِى۔“ (ترمذى۔ابواب الصلوة۔باب ماجاء في وصف الصلوة ) فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخْطِئُ وَأُصِيْبُ نبراس شرح الشرح العقائد النسفی صفحہ ۲۹) یعنی جو بات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہوں وہ حق ہے مگر جو اس کی تشریح میں اپنی طرف سے کروں اس کے متعلق یاد رکھو کہ میں انسان ہوں کبھی میرا خیال درست ہوگا اور کبھی نادرست۔اسی طرح لکھا ہے: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَجْتَهِدُ فَيَكُونُ خَطَاءً نبراس شرح الشرح عقائد النسفی صفہ ۲۹۲) کہ آنحضرت صلعم کئی دفعہ اپنی وحی کی تعبیر یا تشریح اپنی طرف سے فرماتے تھے تو بعض دفعہ غلط بھی ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں:۔انبیاء اور مسلمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ وار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کذب اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ خدا کا کلام۔“ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۱۵) لیس جبکہ واقعات اور حضرت اقدس کے دوسرے اقوال سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہیں اور حضور کے سوا کسی شخص کے لیے یہ پیشگوئی نہ تھی۔تو پھر بھی ایک ڈائری کو (جس کی صحت اور محفوظیت مسلّم نہیں) پیش کر کے اعتراض کرتے جانا طریق انصاف نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔اگر کسی خاص پہلو پر پیشگوئی کا ظہور نہ ہواور کسی دوسرے پہلو پر ظاہر ہو جائے اور اصل امر