مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 625 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 625

625 سے قبل دی بمقابلہ مخالفین سب سے زیادہ قابل استناد ہے۔کیونکہ وہ حضرت کا بچپن سے دوست اور ہم مکتب بھی تھا چنانچہ وہ خود لکھتا ہے:۔مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ( جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھا کرتے تھے ) ہمارے ہم مکتب بھی ہیں۔“ (اشاعۃ السنۃ جلدے نمبر ۶ تا ۱۱۔بابت سال ۱۸۸۴ء صفحه ۱۷۰،۱۶۹) ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض مخالفین نے اعتراض کیا ہے کہ جب حضرت اقدس کی تاریخ پیدائش ہی معلوم نہیں تو پھر عمر کی پیشگوئی دلیل صداقت کیونکر ہوسکتی ہے کیونکہ اس کا صدق و کذب معلوم نہیں ہوسکتا۔جواب:۔ا۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس ہی کے ملفوظات میں ایسے قرائن جمع کرا دیئے تھے کہ جن سے تاریخ پیدائش معلوم ہو کر تم پر حجت ہو سکتی تھی۔چنانچہ اب جبکہ تاریخ پیدائش تحقیق کے رو سے معین ہوگئی تو تمہارا اعتراض بھی ساتھ ہی اڑ گیا۔۲۔اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ فرض کرو کہ تاریخ پیدائش معین نہ بھی ہوتی پھر بھی یہ پیشگوئی دلیل صداقت تھی۔وہ اس طرح کہ :۔(۱) مخالفین احمدیت مثلاً مولوی ثناء اللہ امرتسری و مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کی شہادت غیر احمد یوں پر حجت ہے۔(۲) یہ بات کہ حضور کی عمر چہتر (۷۶) اور چھیاسی (۸۶) کے درمیان ہوگی، الہام الہی کی بناء پر معلوم ہوئی ہے۔اب حضرت اقدس کی وفات کے متعلق بھی الہامات الہی بکثرت موجود ہیں جن کے عین مطابق حضور فوت ہوئے مثلاً الف۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دسمبر ۱۹۰۵ء میں الوصیت شائع فرماتے ہیں اور اس لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ جَاءَ وَقْتُكَ» (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۱) یعنی تیر اوقت وفات قریب آ گیا اور تیری عمر کی میعاد جو مقرر کی گئی تھی اس کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔گویا اللہ تعالیٰ نے صاف بتا دیا کہ ۴ے سال سے متجاوز عمر پانے کی جو پیشگوئی حضور نے کی