مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 624 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 624

624 اس تحریر کے پورا ایک سال بعد حضور فوت ہوئے۔۔چنانچہ خود مرزا صاحب کی عمر بقول اس کے ۷۵ سال کی ہوئی۔“ اہلحد بیث ۲۱ جولائی ۱۹۰۸ ، صفحہ ۳ کالم نمبر ۲) ۴۔مرزا صاحب رسالہ اعجاز احمدی میں عبد اللہ آتھم۔۔۔۔عیسائی کی بابت لکھتے ہیں۔اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔“ ( اعجاز احمدی صفحہ ۳) اس عبارت سے پایا جاتا ہے کہ عبد اللہ آتھم کی موت کے وقت مرزا صاحب کی عمر ۶۴ سال کی تھی۔آئیے اب ہم تحقیق کریں کہ آتھم کب مرا تھا؟ شکر ہے کہ اس کی موت کی تاریخ بھی مرزا صاحب کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔مرزا صاحب رسالہ انجام آتھم صفحہ ا۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ پر لکھتے ہیں۔چونکہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے۔“ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ۱۸۹۶ء میں مرزا صاحب کی عمر ۶۴ سال کے قریب تھی۔بہت خوب ! آئیے اب یہ معلوم کریں کہ آج ۱۹۰۸ء میں ۱۸۹۶ء کو گزرے ہوئے کتنے سال ہوئے۔ہمارے حساب میں (اگر کوئی مرزائی غلطی نہ نکالے تو ) گیارہ سال ہوتے ہیں۔بہت اچھا ۶۴ کے ساتھ اا کو ملانے سے ۷۵ سال ہوتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کی عمر آج کل ۷۵ سال ہے۔“ ( مرقع قادیانی فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۱۲) گویا فروری ۱۹۰۸ء میں حضرت کی عمر بقول ثناء اللہ ۷۵ سال تھی، اس کے تین مہینے بعد حضور فوت ہوئے تو حضرت کی عمر بہر حال مذکورہ بالا عمر سے زیادہ ہی ہوگی کم تو نہیں ہوسکتی جیسا کہ اب ثناء اللہ اور دوسرے دشمن کہتے ہیں۔” جو شخص ستر برس سے متجاوز ہو ( جیسے خود بدولت بھی ہیں ) ( مرزا صاحب۔خادم ) ( تفسیر ثنائی مطبوعہ ۱۸۹۹ء حاشیہ نمبر ۴ بر آیت انّی مُتَوَقِيكَ (آل عمران : ۵۶) جلد دوم) گویا ۱۸۹۹ء میں حضرت کی عمر ۷۰ سال سے زیادہ تھی۔۱۹۰۸ء میں یعنی 9 سال بعد آپ فوت ہوئے تو اس حساب سے حضور کی عمر ۷۹ سال سے زیادہ ثابت ہوئی۔۶۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۵ نمبر ۸صفحہ ۱۹۱۔۱۸۹۳ء میں حضرت کے متعلق سخت غصہ میں آکر لکھتا ہے : ۶۳ برس کا تو وہ ہو چکا ہے۔“ اس کے بعد حضرت اقدس ۱۴ برس زندہ رہے۔گویا ۶۳ + ۱۴=۷۷ سال ہوئی اور یہ امر خاص طور پر یا درکھنے کے لائق ہے کہ حضرت مسیح موعود کی عمر کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی کی یہ شہادت جو اس نے حضرت کی وفات