مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 623 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 623

623 حالانکہ خوب اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بالکل غلط ہے۔حضرت اقدس کی ایک دوسری تحریر اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود آتھم کی زندگی میں ہی آتھم کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اگر آپ چونسٹھ (۶۴) برس کے ہیں، تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ (۶۰) کے ہو چکی۔“ (اشتہار ۵ را کتوبر ۱۸۹۴ء- منقول از تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۶۰ بار اول۔مجموعہ اشتہارات جلد ۸۹) گویا اس حساب سے ۱۸۹۴ء میں حضرت کی عمر قریباً 4 تھی ، اس کے ۱۴ سال بعد ۱۹۰۸ء میں آپ فوت ہوئے۔۶۰ + ۱۴ = ۷۴ اور قمری ۷۶۔گویا حضرت مسیح موعود کی عمر عبداللہ آ قم کی عمر کے مطابق حساب کی رو سے کم سے کم ۷۴ سال بنتی ہے جو عین پیشگوئی کے مطابق ہے اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ ۱۹۰۲ء میں اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت آپ کی عمر قریباً ۶۸ سال تھی نہ کہ ۶۴ سال، جیسا کہ مخالفین بدر کی عبارت پیش کر کے دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔۔حضرت اقدس نے اپنی کتاب نصرة الحق ۱۹۰۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷ میں ی تحریر فرما کر کہ خدا نے مجھے بتایا کہ میری عمر۸۰ سے پانچ سال کم و بیش ہوگی۔فرماتے ہیں:۔اب میری عمر ستر ۷۰ برس کے قریب ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۸) اس کے تین سال بعد آپ فوت ہوئے تو اس لحاظ سے آپکی عمر سے سال کے قریب اور قمری لحاظ سے ۷۵ سال کے قریب ثابت ہوئی۔مخالفین کی شہادت ا۔ظفر علی خان آف زمیندار کے والد مولوی سراج الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود کی وفات پر لکھا:۔”مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ۲۳۰ سال کی ہوگی۔اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔“ (اخبار زمیندار ۸ جون ۱۹۰۸ صفحه ۵ بحواله عسل مصفی جلد ۲ صفحه ۶۳۴) ۲۔مولوی ثناء اللہ امرتسری : ”مرزا صاحب۔۔۔۔۔کہہ چکے ہیں کہ میری موت عنقریب ۸۰ سال سے کچھ نیچے اوپر ہے جس کے سب زینے غالباً آپ طے کر چکے ہیں۔“ اہلحدیث ۳ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ کالم نمبر ۲)