مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 622 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 622

622 دیگر اندازی جیسا کہ اوپر درج ہوا حضرت اقدس کی تاریخ پیدائش کی تعیین ہو جانے کے باعث حضرت کی عمر ٹھیک ٹھیک معلوم ہوگئی کہ عین پیشگوئی کے مطابق تھی لیکن چونکہ بعض تحریرات مخالفین اس قسم کی پیش کیا کرتے ہیں جن میں محض اندازہ کی بناء پر عمر بیان کی گئی ہے اور وہ بوجہ اندازے ہونے کے حجت اور دلیل نہیں بن سکتے۔لیکن یہ بتانے کے لئے کہ محض اندازے کی بناء پر جو عمر بتائی جائے وہ قطعی اور یقینی نہیں ہوتی خود حضرت اقدس کی بعض تحریرات پیش کی جاتی ہیں جن سے حضرت اقدس کی عمر حضور کی تاریخ وفات تک ۷۴ اور ۷۶ کے درمیان ہی ثابت ہوتی ہے۔ا۔”میری طرف سے ۲۳ / اگست ۱۹۰۳ء کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھا جس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ستر ۷۰ برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس (۵۰) برس کا جوان ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۶ حاشیه ومجموعه اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۶۴ حاشیہ اشتہار مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۲ء) گویا ۲۳ اگست ۱۹۰۳ء کو حضرت کی عمر ۷۰ کے قریب تھی اس کے ۵ سال بعد ۱۹۰۸ء میں حضور فوت ہوئے، تو بوقت وفات آپ کی عمر ۷۵ سال کے قریب ثابت ہوئی اور قمری لحاظ سے ے ے برس۔۲۔الف۔” مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔اس کی عمر تو میری عمر کے برابرتھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔اگر شک ہو تو اس کی پینشن کے کاغذات دفتر سر کاری میں دیکھ لو۔“ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۰۹) ب آتھم کی عمر قریباً میرے برابر تھی۔( انجام آنقم۔روحانی خزائن جلدا اصفہے حاشیہ ) ج۔مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے۔“ ( انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ) گویا حضرت کی عمر بوقت وفات ۶۴ + ۱۲= ۶ ۷ گویا قریباً سال ہوئی۔نوٹ: بعض لوگ اخبار بدر ۸ر گست ۱۹۰۴ء صفحہ ۵ کالم نمبر۳ کا حوالہ دے کر یہ مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ گویا اس حوالہ میں حضرت مرزا صاحب ( مسیح موعود ) نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی اس کا مقابلہ عبداللہ تھم کی عمر سے کیا ہے۔“