مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 604 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 604

604 اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔“ (اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۲۱) ثنائی حیلہ جوئی چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے، اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں۔“ لیکن جب پھر ہرطرف سے لعن طعن ہوئی تو لکھا:۔وو ثناء اللہ کی دوبارہ آمادگی الہامات مرزا صفحه ۸۵ طبع دوم و صفحه اطبع ششم) البتہ آیت ثانیہ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ (آل عمران (۶۲) پر عمل کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں جو آیت مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔“ ( اہل حدیث ۲۲ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۴) مرزائیو! بچے ہو تو آؤ اور اپنے گورو کو ساتھ لاؤ۔وہی میدان عید گاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم پہلے صوفی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو ( جھوٹ ہے وہاں ہرگز کوئی ایسا مباہلہ نہیں ہوا۔جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے حق میں بددعا کی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی بددعا نہیں کی تھی ، خادم) اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہے کیونکہ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو، سب امت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔( اہل حدیث ۲۹ / مارچ صفحہ ۱۰۔۱۹۰۷ ء ) مولوی ثناء اللہ صاحب کی یہ تحریر ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے مگر اس سے کچھ دن قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں (جو اس وقت زیر تصنیف تھی یہ تحریر فرما چکے تھے کہ میں بخوشی قبول کروں گا اگر وہ ( ثناء اللہ ) مجھ سے درخواست مباہلہ کریں۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۱ ) ”مباہلہ کی درخواست کرے۔“ (ایضا صفحہ ۳۳) و (ایضا ۴۶۵ ) حضرت اقدس کی یہ تحریر ۲۵ / فروری ۱۹۰۷ ء کی ہے جیسا کہ تمہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۳۶ سطر ۱۰ سے معلوم ہوتا ہے۔اس تحریر سے ظاہر ہے کہ حضرت کا ارادہ یہ تھا کہ اب اگر مولوی ثناء اللہ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کرے تو اسے بھاگنے نہ دیا جائے۔چنانچہ جب اس نے ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ کو دعوت مباہلہ دی