مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 603 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 603

603 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ”انجام آتھم ، میں تمام علماء گدی نشینوں اور پیروں کو آخری فیصلہ ( مباہلہ ) کی دعوت دی۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔وَ آخِرُ الْعَلَاجِ خُرُوجُكُمْ إِلَى بَرَازِ الْمُبَاهَلَةِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔هذَا آخِرُ حِيَلٍ أَرَدْنَاهُ فِى هَذَا الْبَابِ ( انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۶۵) که آخری علاج تمہارے لئے میدان مباہلہ میں نکلنا ہے۔۔۔اور یہی آخری طریق فیصلہ ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا ہے۔اس دعوت مباہلہ میں آپ نے فرمایا کہ فریقین ایک دوسرے کے حق میں بددعا کریں کہ فریقین میں سے جو فریق جھوٹا ہے ، اے خدا تو اس کو ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر۔کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر “ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا اصفحه ۶۶) اور اس کے بعد لکھا: د گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ توہین و تکفیر کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔“ انجام آنقم روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۶۷) اس رسالہ کے مخاطبین میں سے مولوی ثناء اللہ کا نمبر 1 تھا۔مولوی صاحب نے اس چیلنج کا کچھ جواب نہ دیا، اور اپنی مہر خاموشی سے اس جری اللہ فی حلل الانبیاء کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی، لیکن جب ہر طرف سے ان پر دباؤ ڈالا گیا تو اس بدقسمت جانور کی طرح جو شیر کو دیکھ کر انتہائی بدحواسی سے خود ہی اس پر حملہ کر بیٹھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کی۔جس کے جواب میں حضرت اقدس نے لکھا۔حضرت مسیح موعود کا جواب ”مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لئے بہ دل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دُعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مر جائے“ (اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۳۱)