مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 565
565 ان کی بے دینی اور دہریت کا پوری طرح علم مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوسکتا ہے۔جو حضرت مسیح موعود نے آئینہ کمالات اسلام میں تحریر فرمایا ہے:۔فَاتَّفَقَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا فِي بَيْتِى إِذْ جَاءَ نِي رَجُلٌ بَاكِيًا فَفَزِعْتُ مِنْ بُكَائِهِ فَقُلْتُ أَجَاءَ كَ نَعْيُ مَوْتٍ؟ قَالَ بَلْ أَعْظَمُ مِنْهُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوا عَنْ دِينِ اللهِ فَسَبَّ اَحَدُهُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبًّا شَدِيدًا غَلِيظًا مَا سَمِعْتُ قَبْلَهُ مِنْ فَمِ كَافِرٍ، وَ رَأَيْتُهُمْ أَنَّهُمْ يَجْعَلُونَ الْقُرْآنَ تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ وَ يَتَكَلَّمُونَ بكَلِمَاتٍ يَرْتَعِدُّ اللَّسَانُ مِنْ نَقْلِهَا، وَيَقُولُونَ اَنْ وُجُودَ الْبَارِئُ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَ مَا مِنْ إِلَهِ فِي الْعَالَمِ، إِنْ هُوَ إِلَّا كِذَبُ الْمُفْتَرِينَ۔قُلْتُ اَوَلَمْ حَدَّرْتُكَ مِنْ مَجَالِسَتِهِمْ فَاتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَقْعَدُ مَعَهُمْ وَ كُنْ مِنَ التَّائِبِينَ۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۸) یعنی ایک رات ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص میرے پاس روتا ہوا آیا، میں اس کے رونے کو دیکھ کر خائف ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم کو کسی کے مرنے کی اطلاع ملی ہے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ! میں ان لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو دین خداوندی سے مرتد ہو چکے ، پس ان میں سے ایک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت گندی گالی دی، ایسی گالی کہ اس سے پہلے میں نے کسی کافر کے منہ سے بھی نہیں سنی تھی اور میں نے انہیں دیکھا کہ وہ قرآن مجید کو اپنے پاؤں کے نیچے روندتے ہیں اور ایسے کلمات بولتے ہیں کہ زبان بھی ان کو نقل کرنے سے گندی ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ خدا کا وجود کوئی چیز نہیں اور یہ کہ دنیا میں کوئی معبود نہیں، یہ صرف ایک جھوٹ ہے جو مفتریوں نے بولا۔میں نے اسے کہا کہ کیا میں نے تمہیں ان کے پاس بیٹھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ پس خدا سے ڈرو اور آئندہ ان کے پاس کبھی نہ بیٹھا کر واورتو بہ کرو۔وَكَانُوا يَسْتَهْزِءُ وُنَ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَيَقُولُونَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ) أَنَّ الْقُرْآنَ مِنْ مُفْتَرِيَاتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَكَانُوا مِنَ الْمُرْتَدِيْنَ» (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۵۶۸) کہ وہ خدا اور رسول پر تمسخر کرتے اور کہتے تھے کہ قرآن نعوذ باللہ آ نحضرت کا افتراء ہے اور وہ مرتد تھے۔غرضیکہ ان لوگوں کی یہ کیفیت تھی جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مامور من اللہ