مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 566
566 ہونے کا دعویٰ فرمایا۔ایسے لوگوں کے لئے جو خدا کی ہستی ہی کے سرے سے منکر تھے۔ایسا دعویٰ اور زیادہ استہزاء اور تمسخر کا محرک ہوا۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے ساتھ نہایت بے باکی اور شرارت کے ساتھ سلوک کرنا شروع کیا اور کہا۔فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۸ ) که اگر ( مرزا صاحب ) سچا ہے تو کوئی نشان ہمیں دکھائے۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”فَكَتَبُوا كِتَابًا كَانَ فِيْهِ سَبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ سَبُّ كَلامِ اللهِ تَعَالَى وَ إِنْكَارُ وُجُودِ الْبَارِى عَزَّ اِسْمُهُ، وَ مَعَ ذَلِكَ طَلَبُوا فِيهِ آيَاتِ صِدْقِي مِنَى وَ آيَاتِ وُجُودِ اللهِ تَعَالَى وَ أَرْسَلُوا كِتَابَهُمْ فِي الْآفَاقِ وَالْأَقْطَارِ وَأَعَانُوا بِهَا كَفَرَةِ الْهِنْدِ وَ عَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۸ ) انہوں نے ایک خط لکھا جس میں آنحضرت اور قرآن مجید کو گالیاں دی ہوئی تھیں اور خدا تعالیٰ کی ہستی کے لئے نشان طلب کیا ہوا تھا اور انہوں نے اپنا یہ خط آفاق و اقطار میں شائع کیا اور ہندوستان کے دوسرے غیر مسلموں (عیسائیوں) نے اس میں ان کی بہت مدد کی اور انہوں نے انتہائی سرکشی کی۔یہ خط اخبار چشمہ نور اگست ۱۸۸۵ء میں شائع ہوا تھا۔ان کی اس انتہائی شوخی اور مطالبہ نشان پر حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ سے دعا فرمائی جس کا ذکر حضور نے آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۵۶۹ پر بدیں الفاظ شروع فرمایا:۔وَقُلْتُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ انْصُرُ عَبْدَكَ وَ اخْذُلُ اَعْدَاءَ كَ۔الخ کہ میں نے کہا اے میرے خدا! اے میرے خدا! اپنے بندے کی مددفرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل کر۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حضور کو الہاما وہ نشان دیا گیا جس کے لئے وہ لوگ اس قدر بے تاب ہورہے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔إِنِّي رَأَيْتُ عِصْيَانَهُمْ وَطُغْيَانَهُمْ فَسَوْفَ أَضْرِبُهُمْ بِأَنْوَاعِ الْآفَاتِ أُبِيْدُهُمْ مِنْ تَحْتِ السَّمَاوَاتِ وَ سَتَنْظُرُ مَا أَفْعَلُ بِهِمْ وَ كُنَّا عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَادِرِينَ إِنِّي أَجْعَلُ نِسَاءَ هُمْ أَرَامِلَ وَ أَبْنَاءَ هُمْ يَتَامَى وَ بُيُوتَهُمْ خَرِبَةً لِيَذُوقُوا طَعْمَ مَا قَالُوا وَ مَا كَسَبُوا وَلَكِنْ لَّا أَهْلِكُهُمْ دَفَعَةً وَاحِدَةً بَلْ قِلِيلًا قَلِيلًا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ وَ يَكُوْنُوْنَ مِنَ التَّوَّابِينَ إِنَّ لَعْنَتِى