مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 534 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 534

534 صیغہ غائب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی فقرہ میں صیغہ مخاطب میں تبدیل کر کے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسا ہو جایا کرتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔قرآن مجید میں اس اسلوب بیان کی بیسوں مثالیں ہیں مگر انہیں پر اکتفا کی جاتی ہے۔جواب نمبر ۲۔اگر مندرجہ بالا جواب کو قبول نہ کرو تو حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کی زبان سے جواب سنو۔فرماتے ہیں:۔ا عارف۔۔۔ذات حق میں واصل ہو جاتا ہے۔ان کی گردش اللہ تعالیٰ کی گردش اور ان کی باتیں اللہ تعالی کی باتیں ہوتی ہیں اور ان کی نظر خدا کی نظر ہوتی ہے۔حضور پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی بندہ کو اپنا دوست بنا تا ہوں تو میں اس بندے کے کان آنکھیں اور زبان ، ہاتھ پاؤں وغیرہ بن جاتا ہوں۔تا کہ وہ مجھ سے سنے، دیکھے، بولے، کام کرے اور چلے۔“ ( تذکرۃ الاولیاء اردو باب ۱۳صفحہ ۱۰۱ شائع کردہ برکت علی اینڈ سنز - با رسوم مطبع علمی پرنٹنگ پریس لاہور ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیا ء شائع کردہ حاجی چراغ دین سراجدین مطبوعہ جلال پرنٹنگ پریس صفحہ ۱۱۷) نوٹ:۔یادر ہے کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کی عظیم الشان شخصیت کا کسی مسلمان کو انکار نہیں۔چنانچہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے کشف الحجوب مترجم اردو صفحہ ۱۱۵ میں ان کی عظمت و بزرگی کا خاص طو پر ذکرفرمایا ہے۔۲۔حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔اور بندہ کی عزت اس میں ہوتی ہے کہ اپنے فعلوں اور امکان مجاہدہ بجمالِ حق میں آفتِ فعل سے بچا ہو۔اور اپنے فعلوں کو خدا تعالیٰ کے فضل میں مستغرق جانے اور مشاہدہ کو ہدایت کے پہلو میں منفی۔پس اس کا قیام حق سے ہے۔وہ تعالیٰ شانہ اس کے اوصاف کا وکیل ہو اور اس کے فعل کو سب اسی کی طرف نسبت ہوتا کہ اپنے کسب کی نسبت سے نکل گیا ہو۔چنانچہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جبرائیل سے خبر دی ہے اور جبرائیل نے خدا تعالیٰ سے جیسا کہ فرمایا: - لَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبُّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ لَهُ سَمْعًا وَيَدًا وَبَصْرًا وَمُؤَيَّدًا وَلِسَانًا فَبِي يَسْمَعُ وَبِي يُبْصِرُ وَبِي يَبْطِشُ وَبِي يَنطِقُ۔یعنی بندہ مجاہدہ کے ساتھ ہم سے تقرب کرتا ہے۔ہم اس کو اپنا دوست بناتے ہیں۔اس کی ہستی کو اس میں فنا کر دیتے ہیں اور اس سے اس کے فعلوں کی نسبت ہٹاتے ہیں۔تا کہ جو کچھ سنے ہم سے سنے جو کہے ہم سے کہے جو دیکھے ہم سے دیکھے اور جو کچھ پکڑے ہم سے