مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 530 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 530

530 بنادو جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ” راعِنَا “ کو ”رَاعِینَا “ کر کے پکارتے تھے۔باقی رہا فرشتے کا نام تو در حقیقت یہ لفظ ” خیراتی ، ہندی ، پنجابی یا اردو کانہیں بلکہ عربی زبان کا لفظ ہے جو خیراتی ہے جو خیر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ”نیکیوں والا۔کسی نسبتی ہے۔یہ اس فرشتے کا صفاتی نام ہے۔چنانچہ ہمارے مندرجہ بالا معنوں کی تائید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ ذیل تحریر سے ہوتی ہے:۔اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے۔ایک کا نام ان میں سے خیراتی تھا وہ بھی اُن کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے اور میں چار پائی پر بیٹھا رہا۔تب میں نے اُن فرشتوں اور مولوی عبداللہ صاحب کو کہا کہ آؤ میں ایک دعا کرتا ہوں تم آمین کرو۔تب میں نے یہ دُعا کی کہ رَبِّ اذْهَبْ عَنِّى الرِّجْسَ وَطَهَّرْنِي تَطْهِيرًا۔اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور مولوی عبداللہ صاحب بھی آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی جس میں خدا نے تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی کہ جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہوسکتی۔“ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۲،۳۵۱) حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ رویا ۱۸۷۴ء میں یعنی ماموریت سے پہلے کا ہے۔تم تو دو فرشتوں کے قائل ہو کہ ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔ایک نیکیوں والا اور دوسرا بدیوں والا۔پھر اعتراض کیوں؟ دو ۳۴ جے سنگھ بہادر جواب:۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے طاقتور شیر کو فتح نصیب ہوگی اور غلام احمد کی جے“ کے نعرے بلند ہوں گے۔جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔لوائے ما پنہ ہر سعید خواہد بود ندائے فتح نمایاں بنام ما باشد اور دشمن کو بتایا گیا کہ وہ ناکام رہے گا۔بعے ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار ونزار باقی لفظ ” جے سنگھ پر مذاق اڑانا ایسی ہی جہالت ہے جیسے کوئی شخص خدا کے متعلق گاڈیا