مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 524 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 524

524 ذاتی نام (یعنی علم) کی نفی کی۔اور جب اس سے کہا گیا کہ کچھ تو بتاؤ تو اس نے اپنی ڈیوٹی ( یعنی وقت پر پہنچ کر مددکرنا ) کو مدنظر رکھ کر اپنا صفاتی نام بتا دیا۔اب اس کو جھوٹ کہنا انہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو انبیاء کو بھی جھوٹ بولنے کا عادی قرار دیا کرتے ہیں۔گویا ہر بات میں ان کو جھوٹ ہی نظر آیا کرتا ہے۔(اس کی تفصیل آگے آئے گی۔) ۶۔بخاری شریف کے پہلے باب کی دوسری حدیث میں ہے:۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ۔“ (بخاری_کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحی که اکثر دفعه فرشته وحی لے کر ٹن ٹن ٹلی کی آواز کی طرح آتا ہے۔یہ اب علی علی“ کوئی فرشتہ نہیں بلکہ اس کی آمد کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔اسی طرح یہاں بھی ٹیچی اس کی صفت ہے۔ے۔ہاں فرشتوں کے نام ” صفاتی بھی ہوتے ہیں جو ان کے ذاتی نام (علم) کے سوا ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے:۔اِسمُ جِبْرِيلَ عَبْدُ اللَّهِ وَاسْمُ مِيْكَائِيلَ عَبَيْدُ اللَّهِ وَاسْمُ إِسْرَائِيلَ عَبْدُ الرَّحْمنِ۔( دیلمی صفحه ۵ ۵ باب الالف راوی ابوامامیه ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل کا نام عبداللہ ہے اور حضرت میکائیل کا نام عبید اللہ اور حضرت اسرافیل کا نام عبدالرحمن ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:۔ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب میں بیت المقدس سے فارغ ہوا۔اس وقت مجھ کو معراج ہوئی جرائیل جو میرے ساتھی تھے انہوں نے مجھ کو آسمان دنیا کے دروازہ پر چڑھایا جس کا نام باب الحفظ ہے اور اس کا دربان ایک فرشتہ اسمعیل نام ہے۔اس کے ما تحت بارہ ہزار فرشتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ بارہ ہزار فرشتے ہیں۔“ (سیرت ابن هشام جلد اول باب الاسراء والمعراج مترجم اردو صفحه ۱۴۰) اس سے ثابت ہوا کہ فرشتوں کے صفاتی نام بھی ہوتے جوان کی ڈیوٹیوں کے اعتبار سے لگائے گئے ہیں۔اب حضرت جبرائیل کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عبداللہ بتایا ہے۔اگر کوئی از راه تمسخر شرارت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے متعلق یہ کہے کہ ”میاں عبد اللہ “ ”میاں اسمعیل“ یہ وحی لایا ہے۔تو جو جواب تمہارا سو وہی ہمارا سمجھ لو۔