مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 15 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 15

15 جماعت اپنے پیارے وطن چھوڑ کر یہاں رہنا اختیار کرتی ہے اور قادیان کا نام تمام دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔کیا یہ چھوٹی سی بات ہے؟ اور کیا یہ ایسا نشان ہے جسے معمولی نظر سے ٹال دیا جائے؟ دوم:۔عیسائیوں میں سے ڈوئی نے امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے یہ نا پاک کلمات شائع کئے کہ ”میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آئے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جائے۔اے خدا! تو ایسا ہی کر۔اے خدا! اسلام کو ہلاک کرے تو صرف یہ حضور مسیح موعود ہمارے امام علیہ السلام ہی تھے جنہوں نے اس کے مقابلہ میں اشتہار دیا کہ اے جو مدعی نبوت ہے اور میرے ساتھ مقابلہ کر۔ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔“ ( ٹیلیگراف امریکہ ۵ جولائی ۱۹۰۳ءThe Sunday Herald Boston June) لیکن اس نے رعونت سے کہا۔” کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ان کو چل کر مار ڈالوں گا۔(ڈوئی کا پرچہ نیوز آف ہیلنگ دسمبر ۱۹۰۳ء) مگر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اُسی اشتہار ۲۳ اگست ۱۹۰۱۳ء میں شائع کیا تھا۔کہ اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقیناً سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر آفت آنے والی ہے۔اے خدا اور کامل خدا ! یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔“ پھر اس کے بعد سنو کیا ہوا۔وہ جو شہزادوں کی زندگی بسر کیا کرتا تھا۔جس کے پاس سات کروڑ روپیہ تھا۔اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے دشمن ہو گئے اور باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے۔آخر اس پر فالج گرا۔پھر غموں کے مارے پاگل ہو گیا۔آخر مارچ ۱۹۰۷ء میں بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ جیسا کہ خدا نے اپنے مامور کو پہلے سے اطلاع دی اور جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے ۱۰ فروری ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں شائع فرمایا تھا۔”خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیمہ ہوگی۔وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا۔ہلاک ہو کر خدا کی ہستی پر گواہی دے گیا۔یہ عیسائی دنیا، پرانی اور نئی دنیا دونوں پر حضور کی فتح تھی۔سوم :۔آریوں کا ایک نامی لیڈر لیکھرام تھا۔رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۰۸ھ میں یہ پیشگوئی درج کی کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو گا۔اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی ﷺ کو گالیاں دیتا تھا اور بُرے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا۔پھر ۲ فروری ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اُس کے مرنے کی صورت بھی بتادی عِجُلّ جَسَدٌ