مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 505
505 صِفَتِهِمَا۔“ (تفسیر کشاف زیر آیت واذکر فی الکتاب (مریم) کہ اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ شیطان ہر بچہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔سوائے مریم اور ابن مریم کے۔کیونکہ وہ دونوں پاک تھے اور اسی طرح ہر وہ بچہ ( بھی اس میں شامل ہے ) جو مریم اور ابن مریم کی صفت پر ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں مریم اور ابن مریم سے صرف دو انسان ہی مراد نہیں بلکہ دو قسم کے انسان مراد ہیں۔گویا جو مریمی صفت میں اور ابن مریمی صفت میں مومن اور انبیاء ہوں وہ سب ” مریم“ اور ” ابن مریم کے نام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یاد کئے گئے ہیں۔ان صفات کی مزید تشریح قرآن مجید میں ہے:۔ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِى مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ التى أحْصَنَتْ فَرَجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُوا وَصَدَّقَت بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقِنِينَ (التحريم: ۱۳۱۲) کہ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کی مثال فرعون کی بیوی ( آسیہ ) کے ساتھ دی ہے جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور ان ظالموں کی قوم سے مجھ کو رہائی بخش نیز ( خدا نے مثال دی ہے مومن مردوں کی ) مریم بنت عمران کے ساتھ جس نے اپنی شرمگاہ کی پوری حفاظت کی۔پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور وہ خدا کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہوئی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ان آیات سے ماقبل کی ملحقہ آیات میں کا فر مردوں کو دو عورتوں نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ان کے خاوند مومن تھے مگر وہ دونوں کا فرد تھیں۔مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ مومن دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) آسیہ ( زوجہ فرعون ) صفت (۲) مریمی صفت پہلے وہ مومن جو کفر کے غلبہ کے نیچے دب چکے ہوں اور وہ اس سے نجات پانے کے لیے دست بدعا ہوں۔اور دوسرے وہ مومن جن پر روز ازل سے ہی بدی غلبہ نہ پاسکی۔الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (الانبياء : ٩٢) یہ دوسری قسم کا مومن قرآنی اصطلاح میں ” مریم“ کہلاتا ہے۔پھر وہ مریمی حالت سے ترقی کر کے (فَنَفَخَنَا فِيهِ مِنْ رُّوحِا - الانبیاء : ۹۲) کے مطابق ابن مریم کی حالت میں چلا جاتا ہے کیونکہ مقامِ مریکی صدیقیت ہے اور مقام ابن مریم مقام نبوت۔گویا ہر نبی پر دوزمانے آتے ہیں۔پہلے وہ مقامِ مریمی