مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 485
485 کی میں نے مطالعہ کیں اور عبداللہ الہ دین کا چیلنج انعامی دس ہزار روپیہ کا بھی پڑھا۔مگر میں نہایت وثوق اور کامل ایمان اور یقین سے یہ کہتا ہوں کہ مرزا صاحب کے تمام دعاوی والہامات جو چودہویں صدی کے مجدد و امام وقت و مسیح موعود و مہدی موعود اور اپنے نبی ہونے کے متعلق ہیں وہ سراسر جھوٹ وافتراء اور دھوکا و فریب اور غلط تاویلات کی بناء پر ہیں۔برخلاف اس کے عیسی علیہ السلام وفات نہیں پائے بلکہ وہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور ہنوز اسی خا کی جسم کے ساتھ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے اور وہی مسیح موعود ہیں اور مہدی علیہ السلام کا ابھی تک ظہور نہیں ہوا۔جب ہوگا تو وہ اپنے منکروں کو تلوار کے ذریعہ قتل کر کے اسلام کو دنیا میں پھیلائیں گے۔مرزا صاحب نہ مجدد وقت ہیں، نہ مہدی ہیں نہ مسیح موعود ہیں، نہ امتی نبی ہیں بلکہ ان تمام دعاوی کے سبب میں ان کو مفتری اور کافر اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔اگر میرے یہ عقائد خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے اور قرآن شریف و سیح احادیث کے خلاف ہیں اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی در حقیقت اپنے تمام دعاوی میں خدا تعالیٰ کے نزدیک سچے ہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادروز والجلال خدا جو تمام زمین آسمان کا واحد مالک ہے اور ہر چیز کے ظاہر وباطن کا تجھے علم ہے۔پس تمام قدرتیں تجھی کو حاصل ہیں۔تو ہی قہارا و منتقم حقیقی ہے اور تو ہی علیم و خبیر سمیع و بصیر ہے۔اگر تیرے نزدیک مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنے دعاوی والہامات میں صادق ہیں اور جھوٹے نہیں اور میں ان کے جھٹلانے اور تکذیب کرنے میں ناحق پر ہوں تو مجھ پر ان کی تکذیب اور ناحق مقابلہ کی وجہ سے ایک سال کے اندر موت وارد کر یا کسی دردناک اور عبرت ناک عذاب میں مبتلا کر کہ جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو۔تاکہ لوگوں پر صاف ظاہر ہو جائے کہ میں ناحق پر تھا اور حق و راستی کا مقابلہ کر رہا تھا۔جس کی پاداش میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا مجھے ملی ہے۔آمین ! آمین !! آمین !!! نوٹ :۔اس عبارت حلف میں اگر کوئی ایسا عقیدہ درج ہو جسے مولوی ثناء اللہ صاحب نہیں مانتے تو میرے نام ان کی دستخطی تحریر آنے پر اس عقیدہ کو اس حلف سے خارج کر دوں گا۔خاکسار عبداللہ الہ دین سکندر آباد ۱۲ فروری ۱۹۲۳ء نقل اشتهار مورخه ۸ مارچ ۱۹۲۳ء