مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 484
484 بیروت - لبنان جلد ۳ صفحه ۳۳۸) کہ جب حضرت امام مہدی ظاہر ہوں گے تو اس زمانہ کے مولوی خاص طور پر ان کے دشمن ہوں گے محض اس وجہ سے کہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان پر ایمان لانے سے عوام پر اثر اور رسوخ قائم نہیں رہے گا۔نقل اشتهار مؤرخه ۲۲ فروری ۱۹۲۳ء مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو دس ہزار روپیہ انعام مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مؤرخہ، افروری ۱۹۲۳ء کو ایک خاص مجلس میں جس میں کہ ہمارے شہر کے ایک معزز محترم باوقار انسان یعنی عالی جناب مہاراجہ سرکرشن پرشاد بہادر بالقا بہ بھی رونق افروز تھے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میرے حیدر آباد آنے کا اصل مقصود سیٹھ عبداللہ الہ دین ہیں تا کہ ان کو ہدایت ہو جائے۔اس لئے میں اپنے ذاتی اطمینان اور تسلی کے لئے بذات خود یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس حلف کے مطابق جو میں اس اشتہار میں درج کرتا ہوں قسم کھا جائیں مگر قبل اس کے کہ مولوی صاحب حلف اٹھا ئیں ضروری ہوگا کہ ایک اشتہار کے ذریعہ صاف طور پر حیدر آبا د وسکندر آباد میں شائع کر دیں کہ میں اس حلف کو جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور اپنے عقائد کے درمیان حق و باطل کے تصفیہ کا فیصلہ کن معیار قرار دیتا ہوں اور یہ کہ اس حلف کے بعد سال کی میعاد کے اخیر دن تک میں اپنے اس اقرار معیار فیصلہ کن کے خلاف کوئی تحریر یا تقریر شائع نہ کروں گا اور نہ بیان کروں گا۔ہاں ویسے مولوی صاحب کو اختیار ہے کہ مرزا صاحب کی تردید بڑے زور سے کرتے رہیں مگر اس حلف کے فیصلہ کن معیار ہونے سے حلف کے بعد سال بھر تک انکار نہ کریں۔میری طرف سے یہ اقرار ہے کہ اس حلف کے بعد اگر مولوی صاحب ایک سال تک صحیح وسلامت رہے یا ان پر کوئی عبرتناک و غضبناک عذاب نہ آیا تو میں اہل حدیث ہو جاؤں گا۔یا مولوی ثناء اللہ صاحب کے حسب خواہش مبلغ دس ہزار روپیہ مولوی صاحب موصوف کو بطور انعام کے ادا کردوں گا۔حلف کے الفاظ یہ ہیں:۔جو مولوی ثناء اللہ صاحب جلسہ عام میں تین مرتبہ دہرائیں گے اور ہر دفعہ خود بھی اور حاضرین بھی آمین کہیں گے۔میں ثناء اللہ ایڈیٹر اہلحدیث خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات پر حلف کرتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے تمام دعاوی و دلائل کو بغور دیکھا اور سنا اور سمجھا اور اکثر تصانیف ان