مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 483
483 مستثنی نہیں کیا جاتا تھا اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ایسا نہ ہوگا۔نیز اس حدیث نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قرآن مجید کی آیت ” إِذَا الْعِشَارُ عُظَلَت “ بھی زمانہ مسیح موعود کے متعلق ہے۔کیونکہ لَيُتُرَ كُنَّ الْقِلَاصُ والی حدیث صریح طور پر مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق ہے۔بیسویں دلیل:۔مولوی ثناء اللہ مرحوم امرتسری جماعت احمدیہ کے مشہور معاندین میں سے تھے اور عام طور پر یہ دعوی کیا کرتے تھے کہ وہ جماعت احمدیہ کے لڑیچر سے خوب واقف ہیں۔ہم اس جگہ اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کہ ان کا یہ ادعا کس حد تک درست تھا، لیکن بانگ بلند کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کے اس دعوئی کو بھی صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک روشن اور واضح نشان بنایا ہے۔آج سے تمیں سال قبل ۱۹۲۳ء میں جب وہ حیدر آباد دکن میں بغرض تردید احمدیت گئے ہوئے تھے سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب آف سکندر آباد نے ( جو جماعت احمدیہ کے ایک ممتاز فرد ہیں۔) ایک اشتہار انعامی دس ہزار سات صدر و پیہ شائع کیا جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ فی الواقعہ حضرت مرزا صاحب کو اپنے دعاوی میں سچا نہیں سمجھتے تو وہ حلف اٹھا کر اس امر کا اعلان کر دیں۔اگر اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہ جائیں تو دس ہزار روپیدان کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔اور حلف اٹھانے کے وقت نقد پانسور و پید ان کی نذر ہوگا۔علاوہ ازیں اس شخص کو بھی جو مولوی ثناء اللہ صاحب کو اس حلف کے اٹھانے پر آمادہ کرے دو صد روپیہ انعام دیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد مولوی ثناء اللہ تقریباً ۲۶ سال زندہ رہے مگر مولوی صاحب موصوف نے حلف مؤکد بعذ اب اٹھانے کا نام نہ لیا اور ان کا اس سید ھے اور صاف طریق فیصلہ سے پہلوتہی کرنا قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ ان کو دل سے اس بات کا یقین تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے۔ہم ذیل میں جناب سیٹھ صاحب کا انعامی اشتہار نقل کر کے تمام اہل انصاف حضرات کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ حیرت انگیز مگر دانشمندانہ گریز بتاتا ہے کہ وہ صداقت کی بنا پر احمدیت کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا اصل موجب دنیا طلبی کے سوا اور کچھ نہیں۔جیسا کہ حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں:۔إِذَا خَرَجَ هَذَا الْإِمَامُ الْمَهْدِى فَلَيْسَ لَهُ عَدُوٌّ مُّبِينٌ إِلَّا الْفُقَهَاءُ خَاصَّةٌ فَإِنَّهُ لَا يَبْقَى لَهُمْ تَمِيزٌ عَنِ الْعَامَّةِ ( فتوحات مکیه از امام محی الدین ابن عربی جز ثالث مطبوعہ دارا حیاء التراث الاسلامی