مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 482 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 482

482 مبتلا ہو گیا اور میری بددعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہوگئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا۔اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔“ آپ نے یہاں تک لکھا کہ میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان ( انجام انتقم ، روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۶۷) کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔“ یہ دعوت مباہلہ تحریر فرما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالف علماء کو نہایت غیرت دلانے والے الفاظ میں مخاطب فرمایا۔دو گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہوا اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے ( انجام انتقم ، روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۶۷) یہ وہ آخری طریق فیصلہ تھا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ بالا پر شوکت الفاظ میں اپنے ملکفر علماء کو دعوت دی۔رسالہ ” انجام آتھم ان کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا۔مگران میں سے ایک بھی میدان میں نہ آیا۔انیسویں دلیل:۔حدیث میں ہے :۔وَلَيُتْرَكُنَّ الْقِلاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا (مسلم باب نزول عیسی که مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکا ر ہو جائیں گی اور ان پر تیز سفر نہیں کیا جائے گا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعوڈ ایسے زمانہ میں آئے گا جبکہ ایسی ایسی سواریاں ایجاد ہوں گی کہ جن کے باعث اونٹنیاں لمبے اور جلدی کے سفروں میں متروک ہو جائیں گی۔بار برداری یا معمولی مسافت کا کام اگر اونٹوں سے لیا جاتا رہے تو وہ خلاف حدیث نہیں کیونکہ یہ امر عقلاً محال ہے کہ کسی وقت کلّی طور پر سب کی سب اونٹنیاں بیکار کر دی جائیں۔حدیث میں فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا “ کے الفاظ واضح ہیں۔اور قرآن مجید میں ” اَلْعِشَارُ “ کا لفظ ہے جس کے معنی حاملہ اونٹنی کے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ایسی اعلیٰ سواریاں نکل آئیں گی کہ ہر سفر کے لیے اونٹوں کا لابدی ہونا باقی نہ رہے گا۔یعنی جیسا کہ زمانہ قدیم میں شدت ضرورت کے ماتحت حاملہ اونٹنیوں کو بھی کام کاج اور مشقت سے