مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 450
450 ہیں یعنی سچے نبی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کی جماعت تدریجا بڑھتی ہے اور اس کے مقابل اس کے مخالفین کی جماعت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔مدعی نبوت کی تدریجی ترقی اور اس کے بالمقابل اس کے مخالفین کا تدریجی تنزل اس مدعی کے صادق اور منجانب اللہ ہونے پر قطعی اور یقینی دلیل ہے۔-۴۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُ (المومن:۵۲) کہ ہم اپنے انبیاء اور ان کی جماعتوں کی اسی دنیا میں مدد کرتے ہیں اور پھر قیامت کے دن بھی ہم ہی ان کے مددگار ہوں گے۔گویا خدا تعالیٰ کا یہ از لی اور ابدی قانون ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی دشمنوں کے مقابلہ میں مدد اور نصرت فرماتا ہے اور ان کے مخالفین کی معاندانہ اور مخاصمانہ سرگرمیوں کو جو انبیاء کی تباہی اور بربادی کے لئے کی جاتی ہیں ) کبھی کامیاب ہونے نہیں دیتا۔۔چنانچہ ایک اور جگہ کھلے الفاظ میں اپنے اس اٹل قانون کا ذکر فرماتا ہے۔كتب الله لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلي (المجادلة:۲۲) کہ خدا نے روزِ ازل سے یہ لکھ چھوڑا اور مقرر کر دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہی ہمیشہ غالب رہیں گے۔گویا ممکن نہیں کہ کوئی جھوٹا مدعی نبوت ہو اور پھر اس کی جماعت دن بدن بڑھتی چلی جائے۔یہ خدا تعالیٰ کا غیر متغیر اور غیر متزلزل قانون ہے جو جھوٹے اور بچے مدعیان نبوت کے درمیان ایک واضح اور روشن فیصلہ کرتا ہے۔تاریخ کے اوراق اس اصول کی صداقت پر معتبر گواہ ہیں۔آج دنیا میں موسیٰ اور ابراہیم اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا تو موجود ہیں مگر فرعون، نمرود، مسیلمہ کذاب و غیر هم کی طرف منسوب ہونے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔۶۔خدا تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (النحل: ۱۱۷) کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے اور اپنے پاس سے جھوٹے الہامات بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔جھوٹے مدعیان وحی والہام کی ناکامی کا باعث یہ ہے کہ ایسے جھوٹے مدعیوں کے دعوی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت اور نصرت نہیں ہوتی جو خدا کے سچے نبیوں اور رسولوں کے شامل حال ہوتی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو دوسرے مقام پر بیان فرمایا ہے۔لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (ال عمران : ۶۲) أَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود:١٩) کہ کذابوں اور اپنے پاس سے جھوٹے الہامات بنانے والے ظالموں پر خدا کی لعنت ہوتی ہے۔۔خدا کی لعنت کا خوفناک نتیجہ قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔وَمَنْ يَلْعَنِ