مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 451
451 اللهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا (النساء: ۵۳ ) کہ جس پر خدا لعنت کرے اس کا کوئی مددگار اور محمد ومعاون نہیں رہتا۔پس صاف طور پر ثابت ہوا کہ وہ لوگ جو جھوٹے طور پر نبوت اور رسالت کا دعوی کرتے ہیں وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہوتے ہیں اور آخر کار وہ بے یار و مددگار ہو جاتے ہیں۔ان کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا۔اور جلد سے جلد خدا تعالیٰ ان کو جڑھ سے اکھاڑ دیتا ہے۔۹۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری (طه: ۶۲) کہ وہ شخص جو الہام کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔نا کام ونامراد رہتا ہے۔۱۰۔اسی طرح سورۃ اعراف : ۱۵۳ میں بھی خدا تعالیٰ پر افتر کی کرنے والوں کے متعلق اپنا قانون بیان فرمایا دیا ہے کہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور وہ اسی دنیا میں ذلیل ورسوا اور خائب و خاسر رہتے ہیں۔( كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ ) تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ نوٹ :۔یا درکھنا چاہیے کہ مندرجہ بالا دس آیات میں اللہ تعالیٰ نے جس معیار کا ذکر کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ صادق مدعی نبوت تدریجا آہستہ آہستہ ترقی پاتا چلا جاتا ہے۔اس کی ترقی یکدم اور فوری نہیں ہوتی۔تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ وہ اتفاقی طور پر کامیاب ہو گیا۔اور یہ کہ ہمیں اس کے استیصال اور مقابلہ کے لئے پورا موقع نہیں ملا۔ورنہ ہم اگر ذرا زیادہ زور لگاتے تو اس کو مٹا سکتے تھے اور اس طرح سے یہ امر دنیا پر مشتبہ ہو جاتا کہ مدعی کی ترقی اتفاقی تھی یا خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت اس کے شامل حال تھی۔پس خدا تعالی ان کوکھا دیتا ہے تاوہ بھی کو مٹانے پس خدا تعالیٰ ان کے مخالفین کو کھلا کھلا موقع دیتا ہے تا وہ انفرادی طور پر بھی اس کو مٹانے کے منصوبے کر لیں اور پھر اپنی تمام طاقتیں مجتمع کر کے بھی زور لگالیں۔ایک بار کوشش کر لیں۔پھر کر لیں۔پھر کر لیں۔تا کسی کو اس میں شبہ نہ رہ جائے کہ مخالفین کی ناکامی اور مدعی کی کامیابی میں خدا کا زبردست ہاتھ کام کر رہا تھا۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کے گو دو سال کے عرصہ میں دولاکھ کے قریب پیرو ہو گئے مگر اسی عرصہ میں وہ انتہائی بے بسی کے ساتھ قتل ہوا۔جس سرعت اور تیزی کے ساتھ وہ اٹھا تھا اسی کے ساتھ وہ گرا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے کھڑے ہوئے اور خدا نے آپ کو بتایا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کہ تیرے پاس اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ سٹرک میں گڑھے پڑ جائیں گے۔میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مسیلمہ کذاب کی جماعت ایک دوسال