مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 8
8 موافقت اور مطابقت رکھی ہے۔تو کبھی کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔پس اپنی آنکھ کو لوٹا۔کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے۔دوبارہ اپنی نظر کر کوٹا کر دیکھ تیری نظر تیری طرف تھک کر اور درماندہ ہو کر لوٹے گی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کا ئنات اتفاق پیدا ہوگئی اور اتفاقی طور سے مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا۔اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا خود بخود جوڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کی گل پھرانے والا کوئی نہ ہولیکن ان کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طور پر جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہوتا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہیں۔مختلف رنگوں سے مل کر تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔اینٹوں سے مکان بنتا ہے۔لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا؟ بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقا بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہو گیا۔مانا کہ خود بخود مادہ پیدا ہو گیا ، مانا کہ خود بخود ہی ماده سے زمین پیدا ہوگئی۔اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقاً ہی انسان بھی پیدا ہو گیا لیکن تم انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ کیا ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے؟ عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اس کے صناع کا پتہ لگتا ہے۔ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فورا خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصور نے بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے۔پھر کیونکر تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہوگئی ! ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قومی ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کے لئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے۔چونکہ اس کو محنت سے روزی کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کرے۔درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اس کے اندر سے پیٹ بھرے۔اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کے لئے ناخن دیئے۔اور اگر گھوڑے اور بیل کے لئے گھاس کھانا مقرر کیا تو ان کو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے۔اور اگر اونٹ کے لئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اس کی گردن بھی لمبی بنائی۔کیا یہ سب کا رخانہ اتفاق سے ہوا؟ اتفاق نے اس بات کو معلوم کر