مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 441 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 441

441 ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج اورمحمد حسین بٹالوی کی شہادت دیکھو دلیل نمبر میں۔چوتھی دلیل:۔يُصلحُ قَدْ كُنتَ فِيْنَا مَرْجُوا قَبْلَ هَذَا " كه جب صالح علیہ السلام نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ان کی قوم نے کہا کہ اے صالح ! آج سے پہلے تیرے ساتھ ہماری بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔تجھ کو کیا ہو گیا کہ تو نبی بن بیٹھا۔(ھود: ۶۳) گویا جب نبی ابھی دعویٰ نہیں کرتا تو قوم اس کی مداح ہوتی ہے مگر جب دعوی کر دیتا ہے تو هُوَ كَذَّابٌ أَثِر ( القمر : ۲۶) کہنے لگ جاتے ہیں۔کہ یہ اول درجہ کا جھوٹا اور شریر ہے۔ایک شبہ کا ازالہ بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے متعلق مولوی محمدحسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ صاحب نے حسنِ ظن کا اظہار کیا تو وہ بھی اسی طرح غلط تھا۔جس طرح خود مرز اصاحب کا خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کے متعلق اندازہ ان کی بعد کی زندگی سے غلط ہو گیا۔الجواب :۔یہ قیاس مع الفارق ہے۔ہماری دلیل تو یہ ہے کہ جو مدعی نبوت ہو اس کی پہلی زندگی کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے۔نیز یہ کہ مخالفین کی بھی اس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ہم نے کب کہا ہے کہ جس کی زندگی کے متعلق کسی کو حسن ظن ہو وہ ضرور نبی ہوتا ہے۔خواہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔حیرت ہے کہ مخالفین کی عقلیں حق کی مخالفت کے باعث اس قدر مسخ ہو چکی ہیں کہ وہ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔کیا خواجہ کمال الدین یا مولوی محمد علی صاحبان نے نبوت کا دعویٰ کیا ؟ اگر نہیں تو پھر ان کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام کے اظہار خیال کو پیش کرنا بے معنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی تعریف کی ہے تو وہ بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ بیعت رضوان والوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شما بہترین از روئے زمین اند کہ تم دنیا کے بہترین انسان ہو مگر ان میں سے اجد بن قیس بعد میں مرتد ہو گیا تھا۔لیکن اجد بن قیس نے نبوت کا دعوی نہیں کیا اور نہ ان لوگوں نے یہاں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔جن کا نام تم لیتے ہو۔