مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 420
420 ولائل صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی دلیل:۔(حصہ اوّل) فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: ۱۷) کہ میں نے تم میں دعویٰ نبوت سے قبل ایک لمبی عمر گزاری ہے۔کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔اگر میں پہلے جھوٹ بولتا تھا تو اب بھی بولتا ہوں لیکن اگر میری چالیس سالہ زندگی پاک اور بے عیب ہے تو یقیناً آج میرا دعویٰ الہام ونبوت بھی حق ہے۔در جوانی تو به کردن شیوه پیغمبری است حضرت قطب الاولیاء ابو اسحق ابراہیم بن شہر یار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔"جو شخص جوانی میں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوگا وہ بڑھاپے میں بھی اللہ ہی کا تابعدار رہے گا۔“ (تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار باب ۷۶ حالات ابو اسحق ابراہیم بن شہر یار مترجم اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز لا ہور ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء شائع کردہ حاجی چراغ الدین سراج الدین صفحه ۴۲۷ ) حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحبانِ حق کے پیشرو اور امام ہوئے اور محبانِ خدا کے پیشوا۔جب تک برہانِ حق اور رسالت نے ان پر ظہور نہ پایا اور وحی نازل نہ ہوتی تب تک نیک نام رہے اور جب دوستی کی خلعت نے سر مبارک پر زیب دیا تو خلقت نے ملامت سے ان پر زبان درازی کی بعض نے کا ہن کہہ دیا اور بعض نے شاعر اور بعض نے دیوانہ اور بعض نے جھوٹ کا الزام دیا۔ایسی ہی اور گستاخی جائز رکھی۔“ (کشف المحجوب باب چہارم "علامت کے بیان میں مترجم اردو شائع کردہ شیخ ابی بخش جلال دین لاہوری ۱۳۲۲، صفحه ۲۶،۶۵) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت کیا تو اس سے قبل ابولہب اور دوسرے کا فر یہی کہتے تھے مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا ( بخاری کتاب التفسیر تفسير سورة الشعراء۔و انذر عشیرتک الاقربین ) کہ ہم نے آپ سے سوائے سچ کے اور کبھی کچھ تجربہ نہیں کیا مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دعوی بیان فرمایا۔فَإِنِّي نَذِيرٌ بَيْنَ يَدَى عَذَابٍ شَدِید کہ میں خدا کی طرف سے نبی ہو کر آیا