مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 5 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 5

5 بالا تفاق کہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانو ہماری مانو کہ خدا نہیں ہے۔حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دو برابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کو دیکھا اس کی گواہی کو اس کی گواہی پر جو کہتا ہے میں نے اس چیز کو نہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی۔کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہولیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہر حال حجت ہوگی۔تیسری دلیل تیسری دلیل جو قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر نا پسند کرتی ہے، ماں، بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا ، پاخانہ، پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں سے تعلق ہے۔جھوٹ ہے۔یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پر ہیز کرتا ہے۔مگر کیوں ؟ اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں وہ اپنی ماں، بہن اور دوسری عورتوں میں فرق جانتا ہے۔جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے؟ کیا دلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بدنما قرار دیا ہے اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟ اس کے لئے تو جھوٹ اور سچ ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے۔جو دل کی خوشی ہوئی کر لیا۔وہ کون سی شریعت ہے جو اس کے جذبات پر حکومت کرتی ہے۔وہ خدا کی حکومت ہے جس نے دل پر اپنا تخت رکھا ہے اور گو ایک دہر یہ زبان سے اس کی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اس کی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا۔اور گناہوں سے اجتناب یا ان کے اظہار سے اجتناب اس کے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جواب دہی کا خوف ہے جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اس کی بادشاہت کا انکار ہی کرتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا اقسم بيَوْمِ الْقِيمَةِ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللُّوْامَةِ (القيامة : ۳۲) یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ کوئی جز اسزا ہے۔ایسا نہیں بلکہ ہم ان امور کی شہادت کے لئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں۔ایک تو اس بات کو کہ ہر بات کے لئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے جس میں اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بدل جاتا ہے۔اگر خدا نہیں تو یہ