مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 6
6 جزا سزا کیونکر مل رہی ہے اور جو لوگ قیامت گبری کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے۔زانی کو آتشک و سوزاک ہوتا ہے۔شادی شدہ کو نہیں ہوتا۔حالانکہ دونوں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔دوسری شہادت نفس لوامہ ہے۔یعنی انسان کا نفس خود ایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے۔دہریہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جانیں گے۔تکبر اور حسد کو اچھانہ سمجھیں گے مگر کیوں؟ ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں۔اسی لئے نا کہ ان کا دل برا مناتا ہے اور دل اسی لئے برا مناتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کرسکتا۔اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے کہ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوْنَهَا (الشمس: 9) اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کر دیا ہے۔پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی ایک زبر دست دلیل ہے اگر خدا نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جائے۔اور لوگ جو دل میں آئے وہ کر لیا کریں۔چوتھی دلیل: چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذاتِ باری کے متعلق ملتی ہے یہ ہے کہ وان إلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى وَانَّهُ هُوَ اضْحَكَ وَابْكُى وَ أَنَّهُ هُوَ آمَاتَ وَ اَحْيَا وَ أَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى مِنْ نُّطْفَةٍ إِذَا تُمنی (النجم : ۲۳ تا ۴۷) یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچادی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہا اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت و حیات سب اسی کے ہی ہاتھ میں ہیں اور اس نے مرد اور عورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کا کوئی کرنے والا بھی ہو۔پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہوگی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں۔اور وہی انتہا ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کر کے فرمایا کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم جوں جوں پیچھے جاتے ہو کمزور ہی ہوتے جاتے ہو تم کیونکر اپنے خالق ہو سکتے ہو؟ جب خالق کے بغیر کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان