مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 412 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 412

412 جلد اصفحہ ۴۷ باب الحاء) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی اور فرمایا کہ بے شک بنی اسرائیل کی روایات اخذ کر لیا کرو۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔خیر یہ تو عام حکم ہے لیکن روایت زیر بحث میں تو جس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ قرآنی تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ قرآنی تعلیم کے عین مطابق ہے اور خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس نظریہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سورۃ طہ کی مندرجہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے۔پس اس کی صحت میں تو قطعاً کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔شرک فی الرسالة“ کا نعرہ بلند کرنے والوں سے ایک سوال جہاں تک حضرت مسیح موعود کا تعلق ہے حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے ایک ذرہ بھر بھی علیحدگی کو خسران و تاب قرار دیا، لیکن ذرا مندرجہ بالا حوالہ جات کو پڑھ کر پھر ان لوگوں سے جو شرک فی النبوۃ کا جھوٹا نعرہ بلند کرتے ہیں۔پوچھئے کہ احمدیوں کے خلاف تو ” تحفظ ختم نبوت“ کے بہانے سے اشتعال انگیزی اور منافرت خیزی کی مہم چلا رہے ہو۔لیکن قادری سلسلہ کے لوگوں کے خلاف کیوں محاذ نہیں بناتے۔بلکہ اُن کے ساتھ تمہارا کامل اتحاد ہے۔ملاحظہ ہوں حوالہ جات ذیل:۔ا۔"كَانَ فِي زَمَنِ الْغَوْثِ رَجُلٌ فَاسِقٌ مُصِرٌّ عَلَى الذُّنُوبِ وَلَكِنْ تَمَكَّنَتْ مَحَبَّةَ الْغَوْثِ فِي قَلْبِهِ الْمَحْجُوبِ۔فَلَمَّا تُوُفِّيَ دَفَنُوهُ فَجَاءَ مُنْكَرٌ وَ نَكِيرٌ وَ سَثَالًا مَنْ رَبُّكَ وَ مَنْ نَبِيُّكَ وَ مَا دِينُكَ فَأَجَابَهُمَا فِي كُلِّ سُؤَالٍ بِعَبْدِ الْقَادِرِ فَجَاءَ هُمَا الْخِطَابُ مِنَ الرَّبِّ الْقَدِيرِ يَا مُنْكَرُ وَ نَكِيرُ إِنْ كَانَ هَذَا الْعَبْدُ مِنَ الْفَاسِقِينَ لَكِنَّهُ فِي مَحَبَّةِ مَحْبُوبِیُ السَّيْدِ عَبْدِ الْقَادِر مِنَ الصَّادِقِينَ فَلَاجُلِهِ غَفَرْتُ لَهُ ( مناقب تاج الاولیاء و برہان الاصفیاء مطبوعہ مصر القطب الربانی والغوث الصمدانی السید عبد القادر الگیلانی مصنفہ الشیخ عبد القادر القادری ابن محی الدین الا وطی مطبوعہ مصر صفحه ۲۳) ترجمہ:۔حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانہ میں ایک بدکار آدمی تھا جو گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا تھا لیکن اس کے دل پر حضرت غوث الاعظم کی محبت غلبہ پا چکی تھی پیس جب وہ شخص مر گیا تو اسے دفن کر دیا گیا پھر اس کے پاس منکر نکیر آئے اور اس سے تین سوال کئے (۱) تیرا رب کون ہے (۲) تیرا نبی کون ہے (۳) تیرا دین کونسا ہے؟ پس اس شخص نے ان تینوں سوالوں میں سے ہر سوال کا جواب ”عبد القادر دیا ( یعنی یہ کہا کہ میرا رب عبد القادر ہے۔میرا نبی عبدالقادر ہے اور میرا