مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 379
379 حضرت مسیح موعود کی دیگر تحریرات بعض غیر احمدی حضرت مسیح موعود کی بعض اس قسم کی تحریرات پیش کرتے ہیں جن میں معترضین کے نزدیک حضور نے خاتم النبین کا ترجمہ ”بند کرنے والا کیا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کو بند قرار دیا ہے۔الجواب ا:۔حضرت اقدس نے جس نبوت یا رسالت کو بند قرار دیا ہے وہ غیر شریعی براہ راست نبوت ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں : ” اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔“ ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱) ۲۔یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا۔اور جس کے معنے یہ ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوی نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے۔۔۔اس (خدا) نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔میں اس پر قائم ہوں۔اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔“ خط اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء، بد را اجون ۱۹۰۸ء صفحہ ا کالم ۲۰۱ تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحه ۵۳۱)۔اب بحجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔“ (تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲ ) یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے نبوت ہی باطل ہوتی ہے۔کیا ہم ختم نبوت کے یہ معنے کر سکتے ہیں کہ وہ تمام برکات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ملنی چاہئیں تھے وہ سب بند ہو گئے۔“ (چشم مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۸۳) ۵ خدا تعالیٰ کا یہ قول وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین اس آیت کے یہ معنے