مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 346
346 وو عادل تو کہتے ہی اس کو ہیں جو چیز کو اپنے محل پر رکھے۔جب وہ عادل“ تھا تو وہ کس طرح جھوٹے اقوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر سکتا تھا۔اور ہم اس کے متعلق تہذیب التہذیب ہی سے دکھا چکے ہیں کہ لَهُ أَحَادِیتُ صَالِحَة کہ اس کی احادیث قابل اعتبار ہیں علاوہ ازیں جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ حدیث تین مختلف طریقوں اور تین مختلف صحابیوں سے مروی ہے۔اس لئے اگر محض ایک طریقہ (بطریق حضرت ابن عباس) کے ایک راوی پر تم جرح بھی کرو پھر بھی حدیث کی صحت مشکوک نہیں ہو سکتی جیسا کہ حضرت ملا علی قاری اور حضرت امام سیوطی اور حضرت حافظ ابن حجر کے اقوال سے اوپر ثابت کیا جا چکا ہے۔بعض امثله تضعیف کسی کے محض یہ کہہ دینے سے کہ فلاں راوی ضعیف ہے درحقیقت وہ راوی نا قابل اعتبار نہیں ہو جاتا۔جب تک اس کی تضعیف کی کوئی معقول وجہ نہ ہو کیونکہ اس امر میں اختلاف یسیر موجود ہے چنانچہ۔ابراہیم بن عبداللہ بن محمد کے متعلق تہذیب التہذیب میں لکھا ہے زَعَمَ ابْنُ الْقَطَّانَ إِنَّهُ ضَعِيفٌ کہ ابن قطان کے نزدیک ضعیف ہے اس کے آگے اسی صفحہ پر لکھا ہے:۔66 ۲۔قَالَ الْخَلِيلِيُّ كَانَ ثِقَةٌ۔۔۔۔وَ قَالَ مُسْلِمَةُ بُنُ قَاسِمِ الْأَنْدُلِسِيُّ كُوْفِي ثِقَةٌ (تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی زیر لفظ ابراھیم ) کہ خلیلی نے کہا ہے کہ وہ ثقہ تھا اور مسلمہ بن قاسم اندلسی نے بھی اسے ثقہ قرار دیا ہے اسی طرح ابراہیم بن صالح بن درہم البابلی ابومحمد البصری کے متعلق لکھا ہے: قَالَ الدَّارُ قُطْنِی ضَعِيف کہ دار قطنی نے کہا کہ ضعیف ہے حالانکہ ذَكَرَهُ ابْنُ حَبَّانَ فِي التِقَاتِ تهذيب التهذيب از حافظ ابن حجر عسقلانی زیر لفظ ابراهیم ) کہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے غرضیکہ بعض لوگوں کا ابراہیم بن عثمان کو محض ضعیف قرار دے دینا حجت نہیں۔خصوصا جب کہ ہم اس حدیث کی صحت کے متعلق شہاب علی البیضاوی “ اور ”ملا علی قاری“ جیسے محدث کی شہادت جو نا قابل تردید ہے پیش کر چکے ہیں۔۴۔اس حدیث کا چوتھا راوی اَلْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الدَّوْرِيُّ كَانَ صَاحِبُ عِبَادَةٍ وَفَضْلٍ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَا كَانَ بِالْكُوفَةِ بَعْدَ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِي مِثْلَ الْحَكَمُ وَ قَالَ ابْنُ مَهْدِى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ثِقَةٌ ثَبَتَ - تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر