مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 340
340 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا۔جب اسلام میں کچھ باقی نہ رہے گا مگر نام اور قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا مگر الفاظ۔مسجد میں آبا د نظر آئیں گی مگر ہدایت سے کوری۔ان لوگوں کے مولوی آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے انہی سے فتنے اٹھیں گے اور ان ہی میں واپس لوٹیں گے۔ان ہر دو حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ضلال مبین پھیلے گی۔امت محمدیہ میں تفرقے پڑیں گے۔اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کے فقط الفاظ اور پھر علماء اور عوام کی حالت بھی نا گفتہ بہ ہو جائے گی۔گویا کہ ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ (الروم: ۴۲) کا پورا نقشہ کھنچ جائے گا۔پس قرآن کی بتائی ہوئی مندجہ بالا سب ضروریات اور احادیث کی بتائی ہوئی سب جملہ علامات موجود ہیں جو بعثت رسول کو مستلزم ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا امکان ثابت ہے۔گیارہویں دلیل:۔وَإِنْ مِنْ قَرْيَةِ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذلِكَ فِي الْكِتَبِ مَسْطُورًا (بنی اسرائیل: ۵۹) کہ قیامت سے پہلے پہلے ہم ہر ایک بستی کو عذاب شدید میں مبتلا کریں گے اور یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ب۔دوسری جگہ فرمایا: وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل: ۱۶) کہ جب تک ہم نبی نہ بھیج لیں اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا کرتے ( یعنی نبی بھیج کر اتمام حجت کر کے پھر سزا دیتے ہیں ) ج۔پھر فرمایا: - وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أَمْهَا رَسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتنا (القصص : ٦٠) کہ خدا تعالی بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان میں کسی رسول کو مبعوث نہ فرمائے۔تا کہ ( عذاب سے قبل ) وہ ان کو خدا تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے (اور ان پر اتمام حجت ہو جائے۔)