مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 330 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 330

330۔۔۔۔۔وَأَمَّا قَوْلُهُ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَقِيلَ تِلْكَ الْآيَاتُ هِيَ الْقُرْآنُ۔۔۔۔ثُمَّ قَسَمَ تَعَالَى حَالَ الْأُمَّةِ فَقَالَ (فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ ) ( تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمُ يَحْرفُونَ البقرة : ١١٣)۔غیر احمدی : - يبَنِي أَدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِد (الاعراف: ۳۲) میں مسجد کا لفظ غیر مذاہب کے معبدوں کے لیے استعمال ہوا ہے نہ کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے لئے۔جواب:۔آیت زیر بحث کے سیاق و سباق میں سوائے مسلمانوں کے کسی اور قوم کا ذکر ہی نہیں اور یہ تمام نصائح مسلمانوں کو کی گئی ہیں۔چنانچہ يُبَنِی آدَمَ اِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ (الاعراف: ۳۲) سے پہلی دو آیات یہ ہیں :۔قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللهِ مَالَمْ يُنَزِلْ بِهِ سُلْطَنَّا وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ - وَلِكُلِّ أمةٍ أَجَلَّ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ يُبَنِي أَدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ (الاعراف: ۳۴ تا ۳۶) ان آیات کا ترجمہ تفسیر حسینی سے نقل کیا جاتا ہے: " کہہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سوائے اس کے نہیں کہ حرام کئے رب تیرے نے گناہ کبیرہ کہ بڑے عذاب کے سبب ہیں جو ظاہر ہے ان میں سے جیسے کفر اور جو پوشیدہ ہے جیسے نفاق اور حرام کیا وہ گناہ جس پر حد مقررنہیں ہے۔جیسے گناہ صغیرہ اور حرام کیا ظلم یا تکبر ساتھ حق کے۔۔۔اور حرام کیا یہ کہ شرک لاؤ تم ساتھ اللہ کے اور شرک پکڑو اس کی عبادت میں اس چیز کو کہ خدا نے نہیں بھیجی۔۔۔کوئی دلیل اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ کہو تم جھوٹ اور افتراء کرو خدا پر جو کچھ تم نہیں جانتے ہو۔کھیتوں اور چار پایوں کی تحریم اور بیت الحرام کے طواف میں برہنہ ہونا اور واسطے ہر گروہ کے ایک مدت ہے جو خدا نے مقرر کر دی ہے۔ان کی زندگی کے واسطے۔تغیرحسینی جلد اصفحه ۳۰۵ اردومترجم مکتبه سعید ناظم آباد کراچی زیر آیت الاعراف: ۳۳ تا ۳۵) صاف ظاہر ہے کہ قل“ کہہ کر خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور پھر حضور کے ذریعہ سے یہ پیغام تمام بنی نوع انسان کو پہنچایا گیا ہے کہ اِمايَاتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ (الاعراف: ۳۲) باقی رہا تمہارا کہنا کہ مسجد سے مراد اصحاب کہف (عیسائیوں) کی مسجد ہے تو یہ محض مغالطہ آفرینی ہے کیونکہ یہ آیت عیسائیوں کے گرجوں کے اندرا اچھے اچھے کپڑے پہن کر جانے کی ہدایت