مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 329
329 امرتسری میں لکھا ہے: نون تاکید۔یہ حرف آخر مضارع میں آتا ہے اور اس کے آنے سے مضارع کے پہلے لام مفتوح کا آنا ضروری ہوتا ہے۔یہ نون مضارع کے آخر حرف پر فتحہ اور معنے تاکید مع خصوصیت زمانہ مستقبل کے دیتا ہے، جیسے لَيَفْعَلَنَّ ( وہ البتہ ضرور کرے گا ) اس کو مضارع مؤکد بلام تا کید و نون تاکید کہتے ہیں اور اس پر حاشیہ میں لکھا ہے:۔اکثر تو لام مفتوح آتا ہے۔مگر کبھی اما بھی آجاتا ہے۔جیسے اِمَّا يَبْلُغَنَّ " دیکھو کتاب الصرف سبق نمبر ۱۳ انون تاکید صفحه ۱۵ ایڈیشن نمبر ۹ صفحه ۲۳) نیز ملاحظہ ہو بیضاوی جلد ۲ صفحه ۲۸۲ مطبع احمدی زیر آیت فَإِمَّا نَذَهَبَنَ بِك (الزخرف: ۴۲ )لکھا ہے۔وَمَا مَزِيدَةُ مُؤَكَّدَةٌ بِمَنْزِلَةِ لَام الْقَسَمِ فِي اسْتِجُلابِ النُّونِ الْمُؤكَّدَةِ “ پس يَأْتِي “ ( آئے گا) مضارع کے آخر میں ”نون تاکید آیا اور اس کے شروع میں اما آیا۔پس اس کے معنے ہوئے البتہ ضرور آئیں گے رسل (ایک سے زیادہ رسول)۔نوٹ :۔یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔یہاں یہ نہیں لکھا ہوا کہ ہم نے گزشتہ زمانہ میں یہ کہا تھا نیز اس آیت سے پہلے کئی مرتبہ " يَا بَنِي آدَمَ “ آیا ہے اور اس میں سب جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں جیسا کہ يُبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) اے انسانو! ہر مسجد (یا نماز ) میں اپنی زینت قائم رکھو۔چنانچہ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :۔فَاِنَّهُ خِطَابٌ لِاهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَنْ بَعْدَهُمْ ( تفسیر اتقان جلد ۲ صفحه ۳۶ مصری) کہ یہ خطاب اس زمانہ اور اگلے زمانہ کے تمام لوگوں کو ہے۔(ب) تفسیر حسینی موسومہ بہ تفسیر قادری میں ہے:۔” یہ خطاب عرب کے مشرکوں کی طرف ہے۔اور صحیح بات یہ ہے کہ خطاب عام ہے۔(تفسیرحسینی جلدا صفحه ۳۰۵ آخری سطر مطبوعه نولکشو رزمیہ آیت يبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ ) ( ج ) امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔وَإِنَّمَا قَالَ رُسُلٌ وَ إِنْ كَانَ خِطَابًا لِلرَّسُولِ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ وَ هُوَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ