مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 312
312 جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسارا اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔سوچونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خدا وند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۹۴٬۵۹۳ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر۳) اب دیکھ لو کہ حضرت اقدس نے کس صفائی سے اپنے خیال کو جو دوسرے مسلمانوں کے رسمی عقیدہ پر مبنی تھا، نہایت سادگی سے بیان فرما دیا ہے، لیکن جو علم اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا اس کو بھی نہایت صفائی سے بیان فرما دیا ہے۔منقولہ بالا عبارت میں ”لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے۔“ کے الفاظ خصوصیت سے قابل غور ہیں، کیونکہ ”لیکن“ کا لفظ بتا تا ہے کہ اس سے پہلے جو لکھا گیا اس کے خلاف اب کچھ لکھا جانے لگا ہے۔” ظاہر کیا گیا ہے۔“ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ جو اس سے پہلے لکھا گیا وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے علم کی بناء پر نہیں، بلکہ عام انسانی خیال کی بناء پر ہے۔لیکن ما بعد جس مشابہت تامہ اور پیشگوئی مسیح موعود کا مصداق ہونے کا جو مذکور ہے وہ صحیح علم ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں:۔اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔۔۔۔لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں۔“ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۰) پس براہین احمدیہ کے حوالے حیات مسیح کی سند میں پیش کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہودی