مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 300
300 حیات مسیح کی چودہویں دلیل ترمذی ابواب المناقب باب ما جاء في فضل النبي صلى الله علیه و سلم پر ایک روایت ہے جس میں عبداللہ بن سلام نے اپنے دادا سے یہ روایت کیا ہے کہ قَالَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُوْ مَوْدُودٍ قَدْ بُقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ۔هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ۔جواب نمبر :۔یہ آنحضرت کا قول نہیں اس لئے حجت نہیں۔۲۔خود ترمذی نے اسے غریب قرار دیا ہے۔۔اس کا ایک راوی مسلم بن قتیبہ ہے۔اس کے متعلق علامہ ذہبی فرماتے ہیں۔قَالَ أَبُو حَاتَمٍ كَثِيرُ الْوَهُم (ميزان الاعتدال زیر لفظ مسلم بن قتیبه ) کہ یہ بڑا وہی آدمی تھا۔اس روایت کا دوسرا راوی عثمان بن اضحاک ہے اس کے متعلق لکھا ہے۔وَ قَالَ الْأَجْرِى سَأَلْتُ أَبَا دَاوُدَ عَنِ الصَّحَاكِ مِنْ عُثْمَانَ الْحَرَامِ فَقَالَ ثِقَةٌ وَابْنُهُ عُثْمَانُ ضَعِيفٌ (تهذيب التهذيب زیر لفظ ضحاک بن عثمان بن عبد الله ( کہ ابوداؤد کہتے ہیں کہ عثمان بن ضحاک خود ضعیف ہیں لیکن اس کا باپ ثقہ تھا نیز دیکھو میزان الاعتدال ذكر عثمان بن ضحاک بن عبدالله ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ کہ اسے ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے۔نوٹ: اس راوی کا باپ بھی بعض محدثین کے نزدیک ثقہ نہ تھا۔چنانچہ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال ذكر عثمان بن ابي صفية الانصاري في حَدِيثِهِ ضُعُف۔۔۔۔۔قَالَ أَبُو حَاتَم لَا يُحْتَجُ وَ قَالَ أَبُو زَرْعَةٍ لَيْسَ بِالْقَوِی اسی طرح ملاحظہ ہو تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی ذکر عثمان بن ابی صفية جہاں لکھا ہے قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ كَانَ كَثِيرُ الْخَطَاءِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ اسی طرح اس روایت کا تیسرا راوی محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے ذَكَرَلَهُ الْبُخَارِيُّ حَدِيثًا وَقَالَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَلَا يَصِحُ (تهذيب التهذيب ذكر محمد بن يوسف بن عبد الله بن سلام ) کہ اس روای سے امام بخاری نے ایک حدیث نقل کی ہے اور امام بخاری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ یہ راوی قابل اتباع نہیں اور نہ ثقہ ہے۔پس چونکہ اس روایت کے تین راوی غیر معتبر ہیں لہذا حجت نہیں۔