مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 293 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 293

293 زہری سے اس نے روایت کی ہیں منکرات ہیں۔ابن سعد کہتے ہیں کہ یونس قابل حجت نہیں ہے اور وکیج کہتے ہیں کہ اس کا حافظہ خراب تھا۔اس کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھا ہے كَانَ يُدَرِّسُ فِي النَّادِرِ (میزان الاعتدال از ابو عبدالله محمد بن احمد بن عثمان الذهبي زير لفظ يونس بن یزید الایلی ) کہ کبھی کبھی یہ تدلیس سے کام لیا کرتا تھا۔پس اس راویت میں بھی مِنَ السَّمَاءِ کے الفاظ کی ایزاد بھی اس کے حافظہ کی غلطی یا تدلیس کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔سوم۔بیہقی کا قلمی نسخہ پہلی مرتبہ ۱۳۲۸ھ میں چھپا ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی بلکہ وفات کے بعد۔اس لیے مولویوں نے اس میں مِنَ السَّمَاءِ کا لفظ اپنے پاس سے از راہ تحریف اور الحاق زائد کر دیا ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امام جلال الدین سیوطی نے بیہقی سے اس حدیث کو نقل کیا ہے مگر اس میں مِنَ السَّمَاءِ کا لفظ نہیں۔چنانچہ وہ اپنی تفسیر (در منثور از علامہ جلال الدین سیوطی جلد ۲ صفحہ ۲۴۲) پر اس حدیث کو یوں بیان کرتے ہیں:۔وَ أَخْرَجَ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَالْمُسْلِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الْأَسْمَاءِ وَالصَّفَاتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ اَنْتُمُ إِذَا نَزَلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ امام مذکور کا با وجود اس محولہ بالا روایت کو دیکھنے کے مِنَ السَّماءِ چھوڑ دینا بتاتا ہے کہ یہ حدیث کا حصہ نہیں بعد کی ایزاد ہے۔بہر حال حدیث نہیں۔فَانْدَفَعَ الشَّكُ مِنْهُ۔حیات مسیح کی گیارہویں دلیل حدیث میں ہے اِنَّ عِيسَى لَمْ يَمُتُ (جامع البيان ابن جریر جلد ۶ صفحه ۱۹) کہ یقیناً عیسی نہیں مرے۔جواب۔ابن جریر بلحاظ حوالہ حدیث قابل استناد نہیں بوجہ ذیل: شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی اپنی تصنیف عجالہ نافعہ میں تحریر فرماتے ہیں: اس طبقہ میں وہ حدیثیں ہیں جن کا نام ونشان پہلے قرنوں میں معلوم نہیں تھا اور متاخرین نے روایت کی ہیں تو ان کا حال دو شقوں سے خالی نہیں۔یا سلف نے تشخص کیا اور ان کی اصل نہ پائی کہ ان کی روایت سے مشغول ہوتے یا ان کی اصل پائی اور ان میں قدح وعلت دیکھی کہ روایت نہ کی اور