مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 207
207 کر کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف جہاد کرنا چاہئے تھا کہ جنہوں نے آپ کو اپنی بیعت پر مجبور کیا تھا لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ثابت ہوا کہ حضرت علی نے کبھی تقیہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس کے قائل تھے۔(خادم) قوله : وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنُ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ (المومن (۲۹) کہ آل فرعون میں سے ایک شخص حز قیل نامی نے تقیہ کیا۔فرعون سے تو وہ ممدوح خداوند ہو گیا۔حالانکہ یہ تقیہ تو حید خدا میں تھا اور شیعہ کا تقیہ ولایت اور خلافت علی میں تھا۔تو اس سے بڑھ کر محدوح خدا ہیں۔اقول : حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کی دھمکی دی حز قیل بول اٹھا۔آتَقْتُلُونَ رَجُلًا (المومن : ۲۹) تو اس وقت کیا حضرت موسی نے تقیہ کیا؟ نہیں ہرگز نہیں۔اس وقت بھی حضرت موسی کو قتل کا خطرہ تھا اور اس وقت بھی انہوں نے تقیہ نہ کیا اور اگر تقیہ کوئی اچھی بات ہوتی تو حضرت موسی" بھی اس کو اختیار کرتے۔اب رہا حز قیل تو اس نے زیادہ سے زیادہ کنم ایمان کیا نہ کہ تقیہ۔کنتم ایمان اور تقیہ دوالگ الگ چیزیں ہیں۔دوسرے یہ کہ يَكْتُمُ إِيْمَانَةَ (المومن : ٢٩) کے یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ آدمی اُس دن سے پہلے ایمان کو چھپاتا تھا اور اُس دن آکر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کیا۔تو اس نے اظہار ایمان کیا نہ کہ تقیہ اور یہ بھی اس کے معنی ہو سکتے ہیں کہ ایمان کی چنگاری ابھی تک مخفی تھی لیکن اسی وقت دربار میں حضرت موسیٰ کی تقریر ومعجزات کے اثر کے ماتحت اس کے سینے میں ایمان کی چنگاری سلگ اٹھی اور جس وقت فرعون نے حضرت موسی کو قتل کی دھمکی دی تو وہ فوراً بول اٹھا کہ یہ ظلم ہے گویا اس نے اظہار ایمان کر دیا۔قوله : جس طرح اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم نے اصنام باطلہ کوالہ برحق تعبیر کیا اور فرمایا۔فراغ اقی الهتهم (الصفت : ۹۲) اور ایسا کرنے میں اللہ حق میں کوئی فرق نہ آیا۔اسی طرح اگر امام حق نے مصلحتاو شریعتاً خلیفہ باطل کو خلیفہ یا امام کہا۔تو نہ قائل کو کوئی ضرر ہے اور نہ خلیفہ باطل کو کوئی شرف حاصل ہوا۔( قول فیصل مصنفہ مرزا رضا علی صفحه ۱۲) اقول : المتهم میں ہم سے مراد وہ کافر ہیں جو ان کو معبود سمجھتے تھے۔تو یہ قیاس مع الفارق ہے کہ الهتهو میں تو مشرک ان کو معبود مانتے تھے۔اب اگر حضرت علی حضرت ابو بکر کو امیر المومنین کہتے تھے تو آپ حضرت ابوبکر کو حق مانتے تھے۔تو اس میں کوئی تقیہ نہیں۔اگر کہو کہ آپ ان معنوں میں انہیں امیر المومنین کہتے تھے کہ آپ ان لوگوں کے خلیفہ تھے جو ان کی خلافت پر ایمان رکھتے تھے تو اس صورت میں بھی آپ تقیہ نہ کرتے تھے کیونکہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے اور خلیفہ برحق نہ ماننے کی